فهرس الكتاب

الصفحة 957 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا تقریبات اور محفلوں میں تالی بجانا جائز ہے یا مکروہ ہے؟ (مقبل۔ع۔ حال)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

محفلوں میں تالی بجانا جاہلیت کے اعمال سے ہے اور اس کے متعلق جو کم از کم کہا جا سکتا ہے اس کا مکروہ ہونا ہے جبکہ دلیل سے حرام ظاہر ہوتی ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کو کافروں کی مشابہت کرنے سے روکا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مکہ کے کافروں کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

وَ مَا کَانَ صَلَاتُہُمْ عِنْدَالْبَیْتِ اِلَّا مُکَآئً وَّ تَصْدِیَۃ''اور ان لوگوں کی نماز خانہ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔''

علماء کہتے ہیں کہ مکاء سے مراد سیٹی بجانا اور تصدیہ سے مراد تالی بجانا ہے اور مومن کے لیے سنت یہ ہے کہ جب وہ کوئی بات دیکھے یا سنے جو اسے اجھی لگے یا ناپسندیدہ ہو تو سبحان اللہ یا اللہ اکبر کہے۔ جیسا کہ بہت سی احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے۔ تالی بجانا تو بالخصوص عورتوں کے لیے مشروع ہے۔ جب وہ نماز میں پیچھے کھڑی ہوں اور مرد بھی ہوں ۔ اور نماز میں امام بھول جائے تو تالی بجا کر تنبیہہ کرنا ان کے لیے مشروع ہے۔ مگر مرد سبحان اللہ کہہ کر امام کو متنبہ کریں گے۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سنت ثابت ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ مردوں کے تالی بجانے میں کافروں اور عورگوں سے مشآبہت ہے اور دونوں کی مشابہت سے منع کیا گیا ہے… اور توفیق دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

فتاوی بن باز رحمہ اللہ

جلداول -صفحہ 229

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت