فهرس الكتاب

الصفحة 1479 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

محمد یونس بذریعہ ای میل سوال کرتے ہیں کہایاکوئی مسلمان تندرستی کی حالت میں اپنی محنت سے کمایا ہوا سارا مال جسے چاہے دے سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اللہ تعا لیٰ نے انسان کو مختا ر بنا کر میں بھیجا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شریعت کے دا ئرہ میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عطا کر دہ نعمتوں کو جیسے چا ہے استعما ل کر سکتا ہے ما ل و جا ئیداد بھی تصرف کر نے کا اسے پو را پورا حق ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فر ما ن ہے ہر ما ل دار اپنے ما ل میں تصرف کر نے کا زیا دہ حق رکھتا ہے ۔ (بیہقی:6/175)

اس بنا پر صورت مسئو لہ میں کو ئی بھی مسلما ن تند رستی کی حا لت میں اپنا ما ل جسے چا ہے دے سکتا ہے لیکن مندرجہ ذیل با توں کا خیا ل رکھے ،

(1) یہ تصرف کسی نا جا ئز اور حرا م کا م کے لیے نہ ہواور نہ ہی حرا م کاری کے لیے کسی کو دیا جا ئے ۔

(2) جا ئز تصرف کر تے وقت کسی شرعی وارث کو وراثت سے محروم کر نا مقصود نہ ہو ،

(3) اگر تصرف بطو ر ہبہ اولا د کے لیے ہے تو نر ینہ اور ما د نیہ اولا د کے سا تھ مسا و یا نہ سلوک کیا جا ئے ۔

(4) اگر یہ تصر ف بطو ر وصیت عمل میں آئے تو کل جا ئیداد کے 3/1سے زیا دہ نہ ہو نا چا ہیے اور وصیت شر عی وارث کے لیے بھی نہیں بھی نہیں ہو نی چا ہیے شر ائط با لا کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنی زندگی میں بحا لت تندرستی اگر کو ئی اپنی تما م جا ئیداد دینا چا ہتا ہے تو اسے ایسا کر نے کی اجازت ہے ۔ (واللہ اعلم )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص474

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت