فهرس الكتاب

الصفحة 1721 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

یہاں افریقہ میں پوند کی قیمت دس روپے ہے۔اور ہندوستان پندرہ روپیہ جب بھی کوئی آ دمی افریقہ سے انڈیا کو روپے روانہ کرتا ہے۔تو اس کو جتنی کہ اس کی اصل رقم افریقہ کی ہے اس سے ڈیڑھ گنا یعنی روپے کا ڈیڑھ روپیہ ہندوستان میں ملتی ہے۔یہ قانون گورنمنٹ کی طرف سے افریقہ میں ہے۔اور سب آدمی اسی طرح سے روپیہ ملتا ہے۔یہ لینا مسلمان کےلیے شرعا جائز ہے۔ یا نہیں ۔دیگر اگر آدمی ہندوستان سے ایک سو روپیہ افریقہ میں لائے۔تو اس کو ایک سو ہندوستان روپے یہاں افریقہ کا مبلغ 67 روپے 8آنے گورنمنٹ منظور کرتی ہے۔؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

پونڈ سونے کااور روپیہ چاندی کا اس لئے اس میں کمی بیشی جائز ہے۔افریقہ میں ایک پونڈ یا نوٹ دس روپے کا دے کر ہندوستان کے 15 روپے لے سکتا ہے۔منع نہیں افریقہ میں ایک سو کے مبلغ 67 روپے 8آنے چونکہ سرکار نے مقرر کیے ہیں۔جس کا سکہ ہے اس رعیت کو اختیار نہیں لہذا وہ بھی جائز ہے۔زیادہ احتیاط مد نظر ہو۔ تو روپے کے بدلے میں وہاں چلے ہوئے نوٹ لے لیا کریں۔

اہل حدیث امرتسر 18 ربیع الثانی سن 1341ء(

(فتاوی ثنائیہ جلد2 صفحہ 172)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 115

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت