فهرس الكتاب

الصفحة 26 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

مردوں کے لیے مخصوص سونے کی انگوٹھیاں بیچنے کے بارے میں کیا حکم ہے، جب کہ تاجر کو یقین بھی ہو کہ مشتری اسے پہنے گا؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

مردوں کے لیے سونے کی انگوٹھیاں بیچنا حرام ہے جب کہ بائع کو یہ علم ہو یا اس کا ظن غالب ہو کہ مرد اسے پہنے گا تو اس کے ساتھ اس نے گناہ کے کام میں تعاون کیا اور اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے کہ گناہ اور سرکشی کے کام میں تعاون کیا جائے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَتَعاوَنوا عَلَی البِرِّ‌ وَالتَّقویٰ ۖ وَلا تَعاوَنوا عَلَی الإِثمِ وَالعُدو‌ٰنِ...2} ... سورة المائدة

"اور نیکی اور پرہیز گاری کے کاموں میں تم ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو۔"

زرگر کے لیے بھی یہ حلال نہیں ہے کہ مردوں کے پہننے کے لیے سونے کی انگوٹھیاں بنائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت