فهرس الكتاب

الصفحة 1035 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

میرے ایک دوست نے بیمہ کرا یا ہے یعنی اسٹیٹ لائف انشورنس میں بیمہ پالیسی کرا ئی ہے بعض لو گ کہتے ہیں کہ یہ سود ہے جب کہ اسٹیٹ لا ئف والے کہتے ہیں کہ ہم آپ کے ہی پیسوں سے کا روبار کرتے ہیں پلا زے خریدتے ہیں پھر ان کا کرا یہ وصول کرتے ہیں اور اسی میں سے آپ لو گو ں کو منا فع دیتے ہیں میرے اس دوست نے کچھ رقم جمع بھی کروا دی ہے آپ سے التماس ہے کہ قرآن وحدیث کی رو شنی میں ذرا وضاحت فرما ئیں ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

ارباب بیمہ بلا شبہ عوام کے سر مایہ سے حاصل کردہ بناتے ہیں لیکن یہ منا فع شراکت نفع و نقصان کی بنیا د پر نہیں ہو تا بلکہ متعین شرح پر مالک ہو حصہ دار قرار دیا جا تا ہے اس لیے یہ ناجائز ہے دوسری بات یہ ہے کہان لو گوں کے قواعد و ضوابط میں بھی کئی ایک شروط خلا ف شرح ہیں بنا ء بریں ان لو گو ں کے ساتھ معاملہ کرنے سے احتراز ضروری ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص709

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت