السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
سونے کی دکانوں کے ایسے مالکان کے پاس کام کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے جو سودی یا حرام حیلے یا ملاوٹ اور دھوکا وغیرہ کے غیر شرعی کام کرتے ہوں؟
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
ایسے لوگوں کے پاس کام کرنا حرام ہے جو سود یا دھوکا و ملاوٹ کا کاروبار کرتے ہیں کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَلا تَعاوَنوا عَلَی الإِثمِ وَالعُدوٰنِ...2} ... سورة المائدة
"اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ لیا کرو۔"
یہ ارشاد بھی ہے:
{وَقَد نَزَّلَ عَلَیکُم فِی الکِتـٰبِ أَن إِذا سَمِعتُم ءایـٰتِ اللَّہِ یُکفَرُ بِہا وَیُستَہزَأُ بِہا فَلا تَقعُدوا مَعَہُم حَتّیٰ یَخوضوا فی حَدیثٍ غَیرِہِ ۚ إِنَّکُم إِذًا مِثلُہُم...140} ... سورة النساء
"اور اللہ نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم (کہیں) سنو کہ اللہ کی آیتوں سے انکار ہو رہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں (نہ) کرنے لگ جائیں ان کے پاس مت بیٹھو ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے۔"
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ' فان لم یستطع فبلسانہ' فان لم یستطع فبقلبہ) (صحیح مسلم' الایمان' باب بیان کون النہی عن المنکر...الخ' ح: 49)
"تم میں سے جو شخص کوئی برا کام دیکھے تو اسے ہاتھ سے مٹا دے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے سمجھا دے اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے برا جانے۔"
اور جو ایسے لوگوں کے پاس کام کرتا ہے اس نے گویا اس برے کام کو نہ ہاتھ سے متایا، نہ زبان سے سمجھایا اور نہ دل ہی میں برا جانا، لہذا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
محدث فتوی
فتوی کمیٹی