فهرس الكتاب

الصفحة 1896 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

براکل مغربی جرمنی سے محمد اشفاق نعیم پوچھتے ہیں

جرمن میں بینکوں کا ایک اصول ہے کہ اگر کسی آدمی کی رقم نارمل اکاؤنٹ یعنی بغیر سودی اکاؤنٹ میں ایک سال تک پڑی رہے تو بینک والے پانچ فیصد منافع دیتےہیں جب کہ سودی اکاؤنٹ میں ۱۱'۱۲' اور ۱۴ فیصد تک منافع دیا جاتاہے یہ منافع لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر یہ منافع اپنی ذات پر خرچ کرنے کی بجائے پاکستا ن میں کسی غریب آدمی کو دے دیا جائے یا تحفہ وغیرہ دے دیا جائے تو یہ درست ہے یا نہیں؟ یا یہ پانچ فیصد بینکوں سے لیا ہی نہ جائے۔ اگر لے گیا ہوتو اس کا کیا کیا جائے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

بینکوں سے سود کی رقم وصول کرنے کے بارے میں ایک فتویٰ '' صراط مستقیم'' کی فروری کی اشاعت میں آچکا ہے۔ مختصر یہ کہ یہ منافع پانچ فی صد ہو یا چودہ فیصد وہ بہرحال سود ہے اس لئے اس کا وصول کرنا یا لے کے آگے تقسیم کرنا بنیادی طور پر جائز نہیں۔ ہاں اگر لاعلمی سے رقم پر سود بن گیا تو اسے لے کر مستحق لوگوں کو دے دیا تو بعض علماء نے اس کی اجازت دی ہے لیکن اس کی عادت بنا لینا یا اس کو بنیاد بنا کر سود کی رقم کی وصولی شروع کردینا جائز نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ صراط مستقیم

ص514

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت