فهرس الكتاب

الصفحة 1265 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

بعض لو گ پاؤں اور ہاتھوں میں مہندی لگا لیتے ہیں ایسا کرناجائز ہے یانہیں ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

گرمی کی وجہ سے ہاتھ پاؤں جلتے سڑتے ہوں تو بایں صورت مرد مہندی لگاسکتا ہے عام حالات میں نہیں سنن ابو داؤد میں حدیث ہے ۔

«ولا وجعا فی رجلیہ الا قال: «اخضبہما» حسنہ البانی صہیح ابو داود کتاب الطب باب الحجامة (3858) المشکاة (454-)

یعنی"جب کوئی پاؤں کے درد کی شکایت کرتا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے انہیں رنگ لے ۔"

«باب الحجامة» زاد البخاری فی تاریخہ بالحناء قالہ فی فتح الودود (بحوالہ العون 4/2)

یعنی"بخاری نے اپنی تاریخ میں یہ اضافہ کیا ہے کہ مہندی سے رنگ لے"

(اسی طرح اگر ہاتھ یا پاؤں میں کوئی ایسا مرض لاحق ہوگیاہوتو بطور دوا مہندی لگانا جائز ہے۔(عبد الشکور مدنی)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ

ج1ص694

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت