فهرس الكتاب

الصفحة 1867 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

لوگ بینکوں میں اپنی جو رقوم جمع کرواتے ہیں، بعض بینک ان پر منافع بھی دیتے ہیں لیکن ہمیں ان منافع کے بارے میں یہ معلوم نہیں کیا یہ سود ہے یا جائز نفع ہے کہ مسلمان کے لیے اسے لینا جائز ہو۔ کیا عرب دنیا میں ایسے بینک موجود ہیں جو لوگوں کے ساتھ اسلامی شریعت کے مطابق معاملہ کرتے ہوں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

وہ نفع جو بینک جمع کرائی جانے والی رقوم پر ادا کرتا ہے، سود ہے لہذا اسے استعمال کرنا حلال نہیں ہے۔ سودی بینک میں رقم جمع کرانے والے کو اللہ تعالیٰ کے آگے توبہ کرنی چاہیے اور اسے چاہیے کہ فی الفور بینک سے اپنی رقم اور نفع نکال لے اپنی اصلی رقم کو تو اپنے پاس محفوظ رکھے اور بینک سے حاصل ہونے والی اس زائد رقم کو فقراء و مساکین اور عام بہبود کے کاموں میں صرف کر دے۔

ثانیًا: کسی ایسی جگہ کو تلاش کرے جہاں سودی کاروبار نہ ہوتا ہو خواہ وہ کوئی دوکان ہی کیوں نہ ہو اور اپنی رقم وہاں مضاربت پر دے دے اور مضاربت میں نفع کا حصہ مثلا ثلث وغیرہ یا جو بھی ہو وہ معلوم طے شدہ ہونا چاہیے یا پھر بغیر کسی فائدہ کے محض امانت کے طور پر اپنی رقم رکھوا دے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج2 ص523

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت