فهرس الكتاب

الصفحة 1398 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

جب دو قبیلوں میں شدید اختلاف پیدا ہو جائے اور اس بات کا شدید خطرہ ہو کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگ جائیں گے تو اس صورت حال میں ایک تیسرا قبیلہ اگر مداخلت کرے اور جانور ذبح کر کے جھگڑنے والے دونوں قبیلوں کو کھانے پر بلائے تاکہ ان میں صلح کرا دی جائے تو اس ذبیحہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جب جانور ذبح کرنے والے سے جھگڑا کرنے والے دو فریقوں میں سے کسی سے بھی سوائے اس کے اور کوئی غرض نہ ہو کہ وہ آئیں تاکہ ان میں صلح کرا دی جائے تو یہ اس صلح کے سلسلہ میں مدد ہو گی جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا ہے:

{إِنَّمَا المُؤمِنونَ إِخوَةٌ فَأَصلِحوا بَینَ أَخَوَیکُم ۚ وَاتَّقُوا اللَّہَ... 10} ... سورة الحجرات

''مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو''۔

نیز یہ مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد پیدا کرنے اور دلوں سے کدورت کو ختم کرنے میں مدد اور صلح کیلئے حاضر ہونے والوں کی عزت افزائی کیلئے ہے۔ لہٰذا ہمارے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص464

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت