فهرس الكتاب

الصفحة 243 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

میں نے گھر میں اپنی بیوی کی مدد کےلئے ایک خادمہ بلانے کےلئے بیرون ملک خط لکھا تو جواب آیا کہ یہاں سے کوئی مسلمان خادمہ ممکن نہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ جائز ہے کہ میں کسی غیر مسلم خادمہ کو بلالوں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جزیرۃ العرب میں کسی بھی غیر مسلم خادم یا خادمہ ڈرایئور یا کسی بھی کارکن کوبلانا جائز نہیں کیونکہ نبی کریمﷺ نے حکم دیا تھا۔ کہ یہود ونصاریٰ کو جزیرۃ العرب سے نکال دیاجائے آپ نے حکم دیا تھا کہ یہاں صرف مسلمان ہی باقی رہیں اور وفات کے وقت آپﷺ نے یہ وصیت بھی فرمائی تھی کہ تمام مشرکوں کو یہاں سے نکال دیا جائے۔

کافر مردوں اورعورتوں کے یہاں بلانے میں خطرہ ہے۔کہ اس سے یہاں مسلمانوں کے عقائد اخلاق اور ان کی اولاد کی اولاد پر بُرا اثر پڑے گا۔لہذا اللہ تعالیٰ ٰ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت او رشرک وفساد کے خاتمہ کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان غیر مسلم خادموں سے اجتناب کریں

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت