فهرس الكتاب

الصفحة 1908 من 2029

السلام علیکم ورحمةاللہ وبرکاتہ!

میرے ایک دوست نے مجھ سے پانچ ہزار درہم کاروبار کے لیےمانگےہیں۔ایک مہینے کے بعد وہ مجھے پانچ کی بجاے چھ ہزار درہم واپس کرے گا۔کیا یہ ایک ہزار درہم سود میں سے ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

صورت مسؤلہ میں یہ سود ہی ہے، کیونکہ اس میں اس نے آپ کا منافع فکس کر دیا ہے اسے خواہ نقصان ہو یا منافع، آپ کو اس نے نفع نقصان کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف فکس منافع پر شریک کیا ہے جو کہ سود بنتا ہے۔ہاں اس کا درست طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ کہے میں نے یہ کاروبار کرنا ہے اور اس میں ہمیں اتنا منافع ہوگا، ہم اس منافع کو نصف نصف تقسیم کر لیں گے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتویٰ کمیٹی

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت