فهرس الكتاب

الصفحة 118 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

منچن آبا د سے محمد با قر دریا فت کرتے ہیں کہ داڑھی کے با ل جو رخسا روں کے اوپر نمودار ہو تے ہیں اور بعض اوقا ت آنکھوں تک پہنچ کر تکلیف کا با عث بنتے ہیں کیا اس قسم کے با ل بھی داڑھی کا حصہ ہیں یا نہیں ؟ شر عی طو ر پر انہیں کاٹنے میں کو ئی حر ج تو نہیں ہے ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

داڑھی رکھنا ایک اسلا می شعا ر اور مردوں کے لیے با عث زینت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی ثا بت ہے کہ اسے مطلق

طو ر پر چھوڑ دیا جا ئے اور اس کے طو ل و عرض سے ترا ش و خرا ش کر تے ہوئے کچھ تعرض نہ کیا جا ئے داڑھی کے متعلق مختلف

ا حا دیث مرو ی ہیں (1) مشرکین کی مخا لفت کر و ا اور داڑھی کو بڑھا ؤ اور مو نچھیں پست کرو ۔ (صحیح بخا ری )

(2) مو نچھوں کو کا ٹو اور داڑھی کو چھو ڑ دو اس سلسلہ میں آتش پر ست مجو سیوں کی مخا لفت کرو ۔ (صحیح مسلم )

(3) اپنی مو نچھوں کو چھوٹا کرو اور داڑھی کو بڑھا ؤ اور اہل کتا ب کی مخالفت کرو ۔ (مسند امام احمد رحمۃ اللہ علیہ )

ان احا دیث کا تقاضا یہی ہے کہ مشر کین بے دین لو گوں آتش پرستوں اور یہود و نصا ری کی مخا لفت کر تے ہو ئے داڑھی بڑھنا اور

مو نچھیں پست کرا نا ضروری ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی بڑھا نے اور مونچھیں پست کر نے کو امو ر فطر ت سے شما ر کیا ہے لہذا اس داڑھی کو اپنی حا لت پر رہنے دیا جا ئے لغوی لحا ظ سے بھی"لحیۃ"کی تعریف یہ ہے کہ وہ با ل جو ر رخسا روں اور ٹھو ڑی پر اگے ہو ں انہیں داڑھی کہا جا تا ہے چنانچہ المعجم الو سیط میں با یں الفا ظ اس کی تعر یف کی گئی ہے ۔"شعر.الخدین والذقن"رخسا روں اور ٹھو ڑی کے با ل داڑھی کہلا تے ہیں اس لیے رخسا روں پر اگنے والے با ل بھی داڑھی کا حصہ ہیں جن کا کاٹنا

جا ئز نہیں صورت مسئولہ میں اگر رخسا روں کے با ل واقعی آنکھوں کے لیے با عث تکلیف ہیں(اگر چہ یہ صورت ابھی تک

ہما ر ے مشا ہدہ میں نہیں آئی )تو انہیں کا ٹا جا سکتا ہے کیوں کہ ارشا د با ر ی تعا لیٰ ہے:"اللہ تعا لیٰ دین کے معا ملہ میں تم پر تنگی نہیں کر نا چا ہتا ۔ (الحج ) "

یا د رہے کہ مجبو ر ی کے وقت اس گنجا ئش کو اپنے فیشن کی تکمیل کے لیے بطو ر بہا نہ استعما ل نہ کیا جا ئے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص466

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت