السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
ہمارے ملک میں ایک سال میں دو وقت اناج کی فصل ہوتی ہے فصل کٹنے کے وقت پر رعیت لوگ اپنے حسب ضرورت اناج رکھ کر بچت اناج کو فروخت کر دیتے ہیں اس وقت تمام تاجر لوگ اس اناج کو خریدتے ہیں میں بھی خریدتا ہوں چند دن بعد جب کچھ نافع سے بھاؤ آتا ہے توکچھ نہ کچھ نفع یا اپنا اصل مبلغ وصول ہونے تک اس اناج کو ٹھہرا کر فروخت کردیتا ہوں خاص کر قیمت کو بڑھانے کے خیال سے روکتا نہیں اور اتنے دن ٹھہرا کرفروخت کرنا کرکے کوئی میعاد بھی مقرر نہیں کرتا کبھی نقصان بھی ہو جاتا ہے یہ تجارت جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
صورت مرقومہ جائز ہے حدیث شریف میں احتکار سے منع آیا ہے احتکار اس صورت کو کہتے ہیں جس میں غلہ روکنے سے آبادی میں قحط پڑ کر تکلیف ہو معمولی موسمی اتار چڑھا ؤسے فائدہ اٹھانا جائز ہے اگر یہ نہیں تو پھر تجارت کون کرے گا ۔
(۸فروری ۳۵ء)
فتاویٰ ثنائیہ
جلد 2 ص 424