فهرس الكتاب

الصفحة 1650 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

زید پیشہ وکالت کو انجام دیتا ہے۔بکر اس پر یہ الزام لگاتا ہے کہ پیشہ وکالت کی مذہبًا سخت ممانعت ہے۔بلکہ حرمت کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔لہذا ترک کر دیا جائے۔پس ایسی صورت میں بروئے قرآن وحدیث شریف میں آیا فی الواقعی پیشہ وکالت بموجب قول بکر مذہبًا ناجائز و قابل ترک ہے۔اگر ہے تو کس شرط کے ساتھ اگر نہیں ہے تو کسی طرح بصراحت و تفصیل اس فتاویٰ کو اخبار اہل حدیث میں شائع فرما کرآپ عند اللہ ماجور ہوں۔وعند الناس مشکور ہوں۔

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

پیشہ وکالت کی دو حیثیتیں ہیں۔اصل منصب وکیل۔دوم طریق عمل۔منصب وکیل ہے تو یہ کہ عدالت کو صحیح قانونی مشورہ دے۔اس منصب کے لہاظ سے تو جائز کاموں میں وکالت جائز ہے۔الا ان مقدمات میں جن میں قانون ہی خلاف شریعت ہے۔مثلًا دیوانی میں معیاد قرضہ ما فوجداری میں شراب ۔خمر۔اور زنا کا جواز۔ایسے مقدمات میں بپا بندی قانون پیروی کرنا بھی خلاف شریعت ہے حق یہ ہے کہ طریق عمل نے اس پیشے کو بہت کچھ مورود الزام بنایا ہے۔جس کی تفصیل کی ضرورت نہیں نہ مناسب ہے۔

درخانہ اگر کس است یک حرف پس است

(فتاویٰ ثنائیہ۔جلد2 صفحہ 219)

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 77

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت