فهرس الكتاب

الصفحة 1153 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک شخص نے دوسرے شخص کے پاس سو روپیہ کے عوض اپنی زمین گرورکھی اس شرط پر کہ تین برس کے بعد ہم روپیہ دے کرزمین واپس کر لیں گے اور اس مدت میں جو کچھ پیداواری کا منافع ہو وہ اپنے مصرف میں لاوے اور مال گزاری بھی ادا کرتا رہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

بعض علماء اس صورت کو گائے والی صورت، (لبن الدریشرب بنفقة) پر قیاس کرتے ہیں کہتے ہیں زمین کا لگان مرتہن کے ذمے مثل گائے کی خوراک کے برابر ہے بعض اس سے منکر ہیں اختلاف سے نکلنے کے لئے مالک کو بھی کرایہ زمین کے طور پر کچھ دے دیا کرے خواہ تھوڑاہی ہو تو جائز ہے (۱۶جمادی الثانی ۱۳۳۵ء؁)

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 430

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت