فهرس الكتاب

الصفحة 1946 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کام کی ذمہ داری کی وجہ سے مجھے ایسی جگہوں پر جانے کے اخراجات بھی ملتے ہیں'جہاں میں حقیقت میں گیاہی نہیں ہوتا۔ مجھے ادارے کے سربراہ کی بھی تائید حاصل ہوتی ہے 'سوال یہ ہے کہ کیا ان فرضی اخراجات سفر کا لینا جائز ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جس شخص کے کوئی کام سپرد کردیا جائے اور اسے سرانجام دینے کی وجہ سے اسے معاوضہ ملے ' تو اس کے لیے اس وقت تک معاوضہ لینا حلال نہیں جب تک وہ اس کو سرانجام نہ دے خصوصًا جب کہ اس کا کام تعلق بھی ملک کی مصلحتوں سے ہو خواہ ادارے کے سربراہ کی تائید بھی حاصل ہو۔البتہ کام کے عوض تنخواہ یا ترقی وغیرہ دی جاسکتی ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص338

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت