فهرس الكتاب

الصفحة 1079 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کوئی آدمی جنس چاول ، گندم وغیرہ سے اس کے موسم میں خرید کر اس لیے رکھ دیتا ہے کہ سال کے آخر میں جب یہ جنسیں مہنگی ہوں گی تو بیچ ڈالوں گا ،اس کاکیا حکم ہے؟ (قاری عبدالصمد بلوچ)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

یہ احتکار ہے اور احتکار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔

(( قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنِ احْتَکَرَ فَھُوَ خَاطِیٌٔ وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا یَحْتَکِرُ اِلاَّ خَاطِیٌٔ۔ ) )1 ''جو ذخیرہ اندوزی کرے وہ گناہ گار ہے ، ذخیرہ اندوزی نہ کرے گا مگر گناہ گار۔''] ۲/۲/۱۴۲۴ھ

1 مسلم /کتاب المساقات والمزارعت /باب تحریم الاحتکار فی الاقوات۔ ترمذی؍کتاب البیوع؍باب الاحتکار

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 02 ص 550

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت