فهرس الكتاب

الصفحة 373 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اگر کوئی زانی شرعی سزا کے بغیر توبہ کرے تو کیا اس طرح گناہ کی تلافی ہوجاتی ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

واضح رہے کہ گنا ہ دوطرح کے ہوتے ہیں ،صغائر اور کبائر، صغیرہ گناہوں کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے:'' اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تو ہم تمہاری چھوٹی چھوٹی برائیوں کو تمہارے حساب سے ساقط کردیں گے۔'' (۴/النساء:۳۱)

اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنے سے چھوٹے موٹے گناہ خود بخود معاف ہوجاتے ہیں ۔ احادیث میں ہے کہ وضو کرنے اور نماز پڑھنے سے بھی ایسے گناہوں کی تلافی ہوجاتی ہے، البتہ کبیرہ گناہوں کا معاملہ ان سے ذرامختلف ہے۔ ان میں سے بعض کا تعلق حقوق اللہ سے ہوتا ہے، ایسے گناہ تو سچی تو بہ سے معاف ہوجاتے ہیں اور بعض کبیرہ گناہ ایسے ہوتے ہیں جن کے ارتکاب پر حد جاری ہوجاتی ہے۔ا ن کی پھر دو اقسام ہیں:

پہلی یہ کہ ان کا تعلق حقوق العباد دسے بھی ہوتا ہے ، جیسے چوری وغیرہ ایسی صورت میں حد کے ساتھ جو مال چرایا ہے اسے بھی واپس کرنا ہوگا۔

دوسری قسم یہ ہے کہ ان کا تعلق بندوں کے حقوق سے نہیں ہوتا، جیسے شراب پینا ایسے گناہوں کے ارتکاب پر حد کا اجر اضروری ہوتا ہے۔ اور یہ حد ہی اس گناہ کا کفارہ بن جاتی ہے۔ اگر حد کے نفاذ کا موقع نہیں دیا جاتا تو معاملہ اللہ کے سپر د ہے ، چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ''جس شخص نے ایسے گناہ کا ارتکاب کیا جس پر حد ضروری ہے اور اس پر حد جاری کردی گئی تو یہی اس کے گناہ کا کفارہ ہے۔ بصورت دیگر معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔'' (ابن ماجہ کتاب الحدود،۲۶۰۳)

چونکہ ہمارے ملک کی سزائیں غیر شرعی ہیں اور حد کا متبادل نہیں ہیں ، اس لئے مروجہ سزا لینے کے بعد بھی اسے توبہ کرتے رہنا چاہیے تا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مواخذہ سے محفوظ رہے۔ صورت مسئولہ میں زانی کو سزالینا ہوگی، اگر اسے بغیر صرف توبہ پر اکتفا کرتا ہے تو معاملہ اللہ کے سپرد ہے چاہے تو معاف کردے اور چاہے تو مواخذہ کرے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج2ص410

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت