فهرس الكتاب

الصفحة 855 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

انسان کوعام زندگی میں سرڈھانپ کررکھناچاہیےیاکھلا؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

میری یہ تحقیق ہےکہ احرام کی حالت کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپناسرڈھانپاکرتےتھےلہذااگرچہ سرکھلارکھناجائز توہے اورکھلےسرنمازبھی جائز ہے لیکن تاہم سرڈھانپناافضل اورمستحب ہے باقی سرکس سےڈھانپاجائے؟تواس کےلیےاحادیث میں کالی پگڑی کاذکرآتا ہے۔اوراکثراوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےسرمبارک پرعمامہ ہواکرتاتھاااورمنبروغیرہ پرعمامہ کے ساتھ ہونے کاتذکرہ احادیث میں موجودہے۔صحیح بخاری میں وضوکے وقت پگڑی پرمسح کاذکرآتاہے۔فتح مکہ کے وقت آپ کےسرمبارک پرکالی پگڑی تھی لیکن احادیث میں ٹوپیوں کابھی ذکرملتاہے۔رنگ کاتعین کرنابہت مشکل ہےلیکن ایک حدیث جوکہ ابوالشیخ لائے ہیں اس میں ہے کہ:''سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوران سفرکانوں والی ٹوپی پہنتےتھےجب کہ دوران حضرشامی ٹوپی پہنتے تھے۔''

اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے بھی روایات میں ٹوپیاں پہننے کےآثارملتے ہیں جن کی تفصیل کی یہاں پرگنجائش نہیں ہے۔

حاصل کلام:پگڑی خواہ ٹوپی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی سنت ہےدونوں میں سےکسی پر بھی عمل کیا جاسکتا ہے یا کبھی اس پر اورکبھی اس پرعمل کیاجاسکتاہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 510

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت