فهرس الكتاب

الصفحة 774 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک قاری نےیہ سوال پوچھاہےکہ چاندی کی انگوٹھی پہننےکےبارےمیں کیاحکم ہےاوراگریہ جائزہےتودائیں ہاتھ میں پہنی جائےیابائیں میں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

چاندی کی انگوٹھی پہننے میں کوئی حرج نہیں،دائیں ہاتھ میں بھی پہنی جاسکتی ہےاوربائیں میں بھی،لیکن دائیں ہاتھ میں پہنناافضل ہےکیونکہ دایاں ہاتھ اشرف ہے۔نبی کریمﷺنےکبھی دائیں ہاتھ میں پہنی اورکبھی بائیں میں اورنبی علیہ السلام کی ذات گرامی ہی اسوہ ونمونہ ہے۔

سونےکی انگوٹھی اورسونےکی گھڑی مردوں کےلئےاستعمال کرناجائزنہیں کیونکہ سونےکااستعمال صرف عورتوں کےلئےجائزہے،مردوں کےلئےجائزنہیں ہےکیونکہ رسول اللہﷺکی بہت سی صحیح احادیث اس امرپردلالت کرتی ہیں،کہ سونااورریشم پہننامردوں کےلئےحرام اورعورتوں کےلئےحلال ہے۔واللہ ولی التوفیق_

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 412

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت