فهرس الكتاب

الصفحة 1831 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

میں ایک تجارتی کمپنی میں اکاونٹنٹ ہوں اوریہ کمپنی بینک سے سودی قرض لینے کے لئے مجبورہے،میرے پاس بھی قرض کے معاہدے کی کاپی آتی ہے تاکہ میں کمپنی کے رجسٹروں میں اس کے قرض کا اندراج کردوں کیا میرا اس قرض کے معاہدہ کو درج کرنا سود کی کتابت شمار ہوگا کہ میرے لئے اس کمپنی کی ملازمت ہی جائز نہ ہو،نیز کیا اس معاہد ہ کو لکھنے کی وجہ سے میں گنہگارہوں گا؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

مذکورہ کمپنی کے ساتھ سودی معاملات میں تعاون جائز نہیں کیونکہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودکھانے والے،کھلانےوالے اورسود کے لکھنے والے اوراس کے دونوں گواہوں پر لعنت کی ہے اورفرمایا کہ''وہ سب (گناہ میں) برابرہیں'' (صحیح مسلم) نیز حسب ذیل ارشادباری تعالی

{وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} ''اورگناہ اورظلم کےباتوں میں تعاون نہ کیاکرو۔''کے عموم کا بھی یہی تقاضا ہے۔

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 320

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت