السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
دباغت سے پہلے مردار چمڑے کی بیع کرنے میں اختلاف ہے۔ایک قول جواز کا بھی ہے۔ (شرح مسلم للنووی) میں بھی اس کو جائز سمجھتا ہوں۔البتہ استعمال اس کا دباغت پر موقوف ہے۔(اہل حدیث 14 جنوری سن1944ء(
تشریح۔
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلے میں کےمردار کا چمڑا بلا مدبوغ خریدوفروخت کرنا اور منفعت اور قیمت کھانے اور پینے میں استعمال کرنا جائز ہے کہ نہیں۔؟
جواب۔جائز نہیں ہے۔جواز کےلیے دباغت شرط ہے۔فی المنقیٰ ص8
فتاویٰ علمائے حدیث
جلد 14 ص 117
محدث فتویٰ