فهرس الكتاب

الصفحة 965 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

میں نے اخبار عکاظ کے شمارہ نمبر۶۱۰۱ مجریہ ہفتہ ۲۹ ربیع الثانی ۱۴۳۰ھ میں ایک خبر پڑھی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک سعودی نغمہ ساز نے گانا بجانا ترک کر دیا تھا لیکن جب قاہرہ اور پیرس کے مابین ایک ہوائی سفر کے دوران میں اس نغمہ ساز کی ملاقات ایک عالم دین سے ہوئی اور دونوں نے گانا بجانا اور اس کی مشروعیت کے موضوع پہ تبادلہ خیال کیا تو طیارہ سے اترنے سے پہلے اس عالم دین نے دلائل و براہین کے ساتھ اس نغمہ ساز کو قائل کرلیا کہ گانا بجانا شرعا جائز ہے،اور اس کے بعد اس نے دوبارہ گانے گائے جو اس کے نئے گانے شمار ہوتے ہیں،دلائل و براہین کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا گانا بجانا اسلام میں جائز ہے خصوصا عصر حاضر کے گانے جو فحش بھی ہیں اور پھر موسیقی کے ساتھ گائے جاتے ہیں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جمہور اہل علم کے نزدیک گانا حرام ہے اور اگر گانا طبلہ اور سارنگی جیسے آلات موسیقی کے ساتھ گایا جائے تو اس کے حرام ہونے پہ تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔اس کی حرمت کے دلائل میں سے ایک تو یہ ارشاد ربانی ہے:

{وَمِنَ النّاسِ مَن یَشتَر‌ی لَہوَ الحَدیثِ لِیُضِلَّ عَن سَبیلِ اللَّہِ بِغَیرِ‌ عِلمٍ وَیَتَّخِذَہا ہُزُوًا ۚ أُولـٰئِکَ لَہُم عَذابٌ مُہینٌ 6} ... سورةلقمان

اور لوگوں میں بعض ایسا ہے جو بے حودہ حکایتیں خریدتا ہے تکہ اللہ کے راستے سے [ لوگوں ] کو بغیر علم کے گمراہ کرے ،اور اس سے استہزاء کرے ،یہی وہ لوگ ہیں جن کو ذللیل کرنے والا ٰعذاب ہوگا" [جمہور مفسرین نے"لھو الحدیث"کی تفسیر میں لکھا ہے اس سے مراد گانا ہے] "

حضرت عبداللہ بن مسعود قسم اٹھا کر فرماتے ہیں اس سے مراد گانا ہے، نیز عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں۔

الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء البقل،[ السنن الکبری۔للبیھقی ،:۲۲۳/۱۰ ابن ابی الدنیا فی ذم الملاحی،ص ۷۳ سنن ابی داود، الادب، باب ، کراھیة الغناء والزمر، ح:۴۹۲۷ مختصرا:

گانا دل میں نفاق اس طرح پیدا کرتا ہے ،جس طرح پانی سے کھیتی پروان چڑھتی ہے،

صحیح حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لیکونن من امتی اقوام یستحلون ،الحر،والحریر،والخمر،والمعازف، [صحیح بخاری ،الاشربة، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر یسمیہ بغیر اسمہ ۔ح:۵۵۹۰]

میری امت میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو زنا،ریشم، شراب اور آلات موسیقی کو حلال سمجھیں گے،۔

اس حدیث کو امام بخاری نے اپنی صحیح میں معلقا مگر صحت کے وثوق سے روایت کیا ہے ،جبکہ دیگر ائمہ نے بھی صحیح سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔حدیث کے لفظ"معازف"کے معنی گانے اور آلات موسیقی کے ہیں تو اس سے معلوم ہوا جس نے گانے کے جواز کا فتوی دیا [اگر یہ بات صحیح ہے] تو اس نے بغیر علم کے ایک بات کو اللہ کی طرف منسوب کیا ہے اور ایک ایسا باطل فتوی دیا ہے کہ روز قیامت جس کے بارے میں باز پرس ہوگی۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص416

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت