فهرس الكتاب

الصفحة 1260 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اگر بندہ سرکاری یا پرائیویٹ کمپنی میں جاب کرتا ہو اور باس اسے کوئی کام کہہ دے۔مثلا ًکوئی چیز ٹھیک کروانے کے لیے دیتا ہے۔ جبکہ یہ کام اس کا نہیں اور نہ اس کی ڈیوٹی میں شامل ہے اور وہ بندہ اپنی ڈیوٹی ٹائم کے علاوہ اپنی گاڑی پر جا کہ وہ کام کرواتا ہے تو کیا وہ بندہ اس رقم میں سے کچھ پیسے اپنی محنت کے رکھ سکتا ہے۔ کیا وہ پیسے اس کے لیے حلال ہیں یا حرام ہیں۔؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

مالک کو بتائے بغیر اس طریقے سے پیسے رکھنا جائز نہیں ہے،کیونکہ یہ خیانت بن جاتی ہے۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کا یہ حق بنتا ہے تو پھر باس کو بتا کر رکھ لیں،اور اگر باس آپ کی محنت نہیں دیتا ہے تو یہ ظلم ہے ،جس کا گناہ اسی کو ہوگا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت