فهرس الكتاب

الصفحة 1275 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کسی کام کی اُجرت یا محنت کس حد تک وصول کی جا سکتی ہے؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

شریعت نے کسی کاریگر یا مستری کی مزدوری اور محنت مقرر نہیں کی بلکہ فریقین کے باہمی اتفاق سے ہی مقرر کی جا سکتی ہے البتہ مستری اور کاریگر کو اللہ سے ڈرتے ہوئے اپنی مناسب اُجرت وصو ل کرنا چاہیے۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ظلم کے سپرد کر سکتاہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت