فهرس الكتاب

الصفحة 1051 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اگر کوئی شخص اپنی دکان کسی ایسے آدمی کو کرائے پر دے جو حرام کاروبار کرتا ہو ،مثلًا فلموں ،گانوں کی سی ڈیوں اورکیسٹوں کی دکان کھولے،یا کوئی نشہ آور چیز فروخت کرے،یا کوئی اور غیر شرعی کام کرتا ہو تو کیا یہ کرایہ اس کا حرام کمائی میں شمار ہو گا ۔؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

کسی غلط کام کرنے والے شخص کو دکان کرائے پر دینا حرام عمل ہے کیونکہ اس طرح اس کے فسق و فجور میں اس کی معاونت ہوتی ہے ،اور گناہ کے کاموں میں معاونت کرنے کا بھی اتنا ہی گناہ ہے جتنا کہ گناہ کرنے کا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے۔:

'' وتعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان'' (المائدة:2)

' اور نیکی و تقوی پر تم ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ و زیادتی پر کسی کا تعاون مت کرو۔'

مذکورہ آیت مبارکہ کی روشنی میں ایسے شخص کو دکان کرائے پر دینا ناجائز اور حرام ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتویٰ کمیٹی

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت