فهرس الكتاب

الصفحة 246 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

امید ہے کہ آپ کچھ ایسی احا دیث کی طر ف راہنما ئی فر ما ئیں گے جن سے معلوم ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا ہے کہ"جو شخص داڑھی منڈائے وہ فا سق ہے"نیز یہ فر ما یئے کہ کیا یہ جا ئز ہے کہ مونچھوں کو با لکل منڈوا دیا جا ئے ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

داڑھی منڈانا حرا م ہے اور منڈانے وا لا فا سق ہے کیو نکہ وہ ان احا دیث کی مخا لفت کر تا ہے جن میں داڑھی بڑھا نے کا حکم دیا گیا ہے اس سے پہلے بھی بحوث العلمیہ والا فتا ء کی مستقل کمیٹی نے اس سے ملتے جلتے ایک سوال کے جواب میں فتوی دیا تھا جو کہ حسب ذیل ہے:

"داڑھی منڈ ا نا حرا م ہے کیو نکہ حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرما یا:"

خالفوا المشرکین ووفروا اللحی واحفوا الشوارب (صحیح بخاری)

"مشرکو ں کی مخا لفت کرو داڑھیوں کو بڑھا ؤ اور مونچھوں کو کترا ؤ ۔"اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی یہ حدیث ہے کہ نبی کر یم ﷺ نے فر ما یا:

جزوا الشوارب وارخوا اللحی وخالفوا المجوس (صحیح مسلم)

"مو نچھوں کو کترا ؤ داڑھیوں کو بڑھاؤ اور مجو سیوں کی مخا لفت کرو ۔ داڑھی منڈانے پر اصرار کر نا کبیرہ گناہ ہے جو منڈائے اسے نصیحت کر نا اور داڑھی منڈانے سے منع کرنا واجب ہے ۔ اگر ایسا کو ئی شخص قیادت یا کسی دینی مرکز میں ہو تو اسے اور بھی زیا دہ تا کید کے سا تھ سمجھا نا ضروری ہے ۔مو نچھوں کو منڈوانا رسول اللہ ﷺ یا کسی بھی صحا بی سے ثابت نہیں ہے اس سلسلہ میں جو ثا بت ہے وہ کترا نا اور تر شوا نا ہے ۔"

ہذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت