فهرس الكتاب

الصفحة 1209 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

میرے پاس ایک شارع عام پر چند دکانیں ہیں،جن میں سے کچھ دکانیں میں نےکرایہ پر دی ہیں اورکچھ باقی ہیں،چند دن پہلے میرے پاس ایک ہم وطن آیا اس نے مجھ سے یہ مطالبہ کیاکہ میں اسے بھی کرایہ پر ایک دکان دوں،جس میں وہ ویڈیو کیسٹوں کا کاروبارکرنا چاہتا ہے تومجھے اس شخص کو اپنی دکان دینے کے سلسلہ میں ترددہے سوال یہ ہےکہ کیامیں حرام اشیابیچنے والوں کواپنی دکانیں کرایہ پر دے سکتا ہوں؟کیا ان کو دکانیں کرایہ پر دینے سے مجھے بھی گناہ ہوگا؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

اس شخص کودکان کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے جوحرام اشیاء بیچے یا بنائے مثلا ًسگریٹوں ،حرام فلموں اورداڑھی مونڈھنے کے لئے اوراس طرح کے دیگر حرام کاموں کے لئے اپنی دکان کرایہ پر دینا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ بھی گناہ اورظلم کی باتوں میں تعاون ہے۔ارشادباری تعالی ٰہے:

{وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ‌ وَالتَّقْوَیٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} (المائدۃ۵/۶)

''اور (دیکھو) نیکی اورپرہیزگاری کےکاموں میں ایک دوسرےکی مددکیاکرواورگناہ اورظلم کےکاموں میں مددنہ کیاکرو۔''

مقالات وفتاویٰ ابن باز

صفحہ 322

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت