فهرس الكتاب

الصفحة 798 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

پچھلے دنوں کھال سے بنے ہوئے کوٹ استعمال کرنے کے موضوع پر ہماری بہت گرما گرم گفتگو ہوئی 'کچھ بھائیوں کا خیال تھا کہ یہ کوٹ عمومًا خنزیر کی کھال سے بنائے جاتے ہیں'لہذا یہ جائز نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعی خنزیر کی کھال کے بنے ہوں تو پھر ان کے استعمال کے بارے میں آپکی کی کیا رائے ہے'کیا انہیں استعمال کرنا شرعًا جائز ہے؟ بعض دینی کتابوں مثلًا قرضاوی کی"الحلال والحرام"اور عبدالرحمن الجزیری کی"کتاب الفقہ علی المذہب الاربعہ"میں اس مسئلہ کی طرف اشارہ تو کیا گیا ہے مگر اس کو واضح طورپر بیان نہیں کیا گیا؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

حدیث سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

(( اذا بلغ الاہاب فقد طہر ) ) (صحیح مسلم 'الحیض 'باب طہارة جلود المیتة بالدباغ ' ح:366) ""

"جب کھال کو رنگ دیا جائے توو وہ پاک ہوجاتی ہے۔"

نیز آپ نے فرمایا:

(( دباغ جلود المیتة طہورہا ) ) (ابن حیان (الوارد) باب فی جلود المیتة تدیغ' ح: 123 وسنن النسائی:7/174' ح:4249)

"مردہ جانوروں کی کھالوں کو رنگنا انہیں پاک کرنا ہے۔"

اس مسئلہ میں علماء میں اختلاف ہے کہ کیا اس حدیث کے عموم میں تمام کھالیں شامل ہیں یا اس میں بطور خاص صرف ان مردہ جانوروں کی کھالوں کا حکم بہان کیا گیا ہے جو ذبح کرنے پاک ہوجاتے ہیں۔ اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ ذبح کرنے سے پاک ہوجانے والے جانوروں مثلًا اونٹ 'گائے اور بکری میں سے مردہ جانوروں کی کھالوں کو جب رنگ لیا جائے تو وہ علماء کے صحیح قول کے مطابق پاک ہوجاتی ہیں اور ہر چیز میں ان کا استعمال کرنا جائز ہے۔ باقی رہے خنزیر اور کتے وغیرہ وہ جانور جو ذبح کرنے سے بھی پاک نہیں ہوتے'ان کے بارے میں اہل علم میں یہ اختلاف ہے کہ کیا ان کی کھالیں رنگنے سے پاک ہوجاتی ہیں یا نہیں 'زیادہ احتیاط اسی میں ہے کہ ان کے استعمال کو ترک کردیا جائے تاکہ نبی ﷺ کے حسب ذیل ارشادات پر عمل ہوسکے:

(( فمن التقیٰ الشبہات استباء لدینہ وعرضہ ) ) (صحیح مسلم 'المساقاة' باب اخذ الحلال وترک الشبہات ' ح: 1599)

"جو شخص شبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین وعزت کو بچالیا۔"اور

(( دع مایریبک الیٰ مالا یریبک) (جامع الترمذی' صفة القیامة 'باب حدیث اعقلہا وتوکل ___الخ' ح:2518 وسنن انسائی ح: 5114)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص266

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت