السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
پنجاب یا دیگر علاقوں میں جو آدمی عورتوں کو، (خواہ مسلمات ہوں یا غیر مسلمات) اغوا کر کے فروخت کر دیتے ہیں یا مسلمان کرکے خود نکاح کر لیتے ہیں اس مسئلہ میں کیا حکم ہے اغوا کرنے والا گنہگار ہے یا نہیں ؟ اور وہ روپیہ جو اس نے فروخت کر لیا ہے وہ حرام ہے یا حلال ؟ اور غیر مسلمہ کو اغوا کرکے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر جائز ہے تو اس کی عدت کتنی ہے ؟
(خادم سنت پوری شیخوپورہ )
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
کسی آزاد انسان کا فروخت کرنا کسی طرح جائز ہے مسلم ہو یا غیر مسلم ، اغوا سے ہو یا رضا مندی سے اس کے دام بھی حرام ہیں ، اغوا کردہ عورت کو مسلمان کرنا بھی منع ہے ، برضائے خود مسلمان ہو تو جائز ہے ایک ماہ عدت گذار کر اس کا نکاح بھی جائز ہے، (۱۸محرم ۱۳۲۲ء)
فتاویٰ ثنائیہ
جلد 2 ص 458