فهرس الكتاب

الصفحة 1791 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک دکان دار کسی کو آلو کسی کو مکئی اس وقت اس شرط پردیتا ہے کہ ہاڑی کے موقع پریعنی جب گندم نئی آئے گی لے لوں گا یعنی جتنے آلو یا مکئی دی ہے اتنی ہی گندم یامکی لے لوں گا کیا اس طرح کرنا جائز ہے جواب مدلل ہو؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

آلو اور مکئی اموال سودیہ میں نہیں ہیں اس لئے ان کی بیع میں اختلاف ہے ایک گرہ محدیثن صورت مرقومہ کی بیع جائز کہتا ہے قیاس کرنے والے منع کرتے ہیں۔

)فتاوی ثنائیہ جلد 2 ص408) (اہل حدیث امرتسر ص 13 مارچ 1933ء(

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 14 ص 208

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت