فهرس الكتاب

الصفحة 1852 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک آدمی نے دوسرے کے چاول کی بوریاں ایک مدت کے ادھار پر بیچیں تو مشتری نے انہیں بائع سے لے کر اپنے قبضہ میں لے لیااور دلال انہیں بازار میں لے گیا تو دلال سے ایک اور آدمی نے انہیں خرید لیا اور کہا کہ انہیں قبضہ میں لے لو لیکن گاہک نے انہیں موجود نہ پایا تو بائع اول نے کہا کہ میں وکیل ہوں، میں انہیں دلال سے لے کر اپنے قبضہ میں لے لوں گا، یہ بات سن کا حاضرین پکار اٹھے کہ یہ تو سود ہے سود! اس مسئلہ میں فتویٰ دیجئے، اللہ تعالیٰ آپ کو اجروثواب سے نوازے!

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جس شخص نے دلال سے چاول خریدے ہیں اگر اس نے یہ اپنے لیے خریدے ہیں، اس کے او ربائع اول کے درمیان یہ منصوبہ بندی بھی نہیں ہے کہ وہ اس کے لیے خریدے اور وہ اس کے پاس کام بھی نہیں کرتا اور بائع اول کا چاول کی بوریوں کو اپنے قبضہ میں لینا دلال سے مشتری کے لیے بطریق وکالہ ہے تو بیع صحیح ہے اور اس میں ربا نہیں ہے اور اگر بائع اول اور دلال سے چاول کی بوریاں خریدنے والے کے درمیان پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی ہے کہ وہ اس سے خریدے تاکہ یہ بوریاں پھر سے بائع اول کے پاس آ جائیں تو یہ ربا ہے اور بیع صحیح نہیں ہے اور یہ دھوکا ہے جو اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں اور نہ اس سے حرام حلال ہو گا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت