فهرس الكتاب

الصفحة 755 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

عورتوں کی ناک چھید کرزیور پہننا عند الشرع حرام ہے۔ یاجائز جو شخص کہتا ہے۔ کہ ناک چھید ناتبدیل خلق اللہ لازم آتا ہے۔ لایبدین زینتہن کے خلاف لازم ہے۔ اور قرون ثلاثہ میں یہ نہیں پایا گیا۔ اور مسلم ہو یاغیر مسلم شریف قوم ناک میں زیور نہیں ڈالتی تھی۔ لہذا یہ حرام ہے یہ صحیح ہے یا غلط اور یہ مشہور ہے کہ حضرت سائرہ علیہا السلام نے حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی ناک چھید کر زیور ڈالا تھا۔ تاکہ بدصورت معلوم ہو وہ بھی خوبصورت معلوم ہونے لگیں۔ یہ صحیح ہے یا نہیں؟ (خریدار نمبر 9576)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

حدیثوں میں تو یہ ملتا ہے کہ عید کے دن آپﷺ نے عورتوں کو وعظ فرمایا وعظ میں صدقہ خیرات دینے کی تاکید فرمائی تو عورتوں نے کانوں کی بالیاں چندے میں دے دیں۔ جو حضر ت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جھولی میں تھیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کانوں کا چھیدنا تبدیل خلق اللہ نہیں۔ کانوں کا نہیں تو ناک کا کیونکہ ہوا؟ میرے نزدیک تو جیسے کان میں زیور ڈالناجائز ہے ویسے ہی ناک میں ڈالناجائز ہے۔ تغییر خلق اللہ سے مراد نسبت الی غیر اللہ۔ فلما اتاہما صالحا جعلا لہ شرکاء فیما اتاہما ۔

(5 اکتوبر 1928ء)

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 78

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت