السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
یہاں آگرہ میں پکا چمڑہ فروخت کرنے والوں نے ایک انجمن قائم کی ہے اس انجمن کے کچھ قواعد ہیں منجملہ ان کے تین یہ ہیں:۔
(۱) جو کوئی نئی دوکان کھولتاہےاس سے سوا سوروپیہ لیا جاتاہے اگر کوئی نہ دے توممبران انجمن اس کے ہاتھ فروخت نہیں کرتے ۔
(۲) ہر ایک دوکاندار دے چار آنہ ہوار چند لیا جاتاہے
(۳) جو ممبر انجمن کت قواعد کی خلاف ورزی کے اس کو جرمانہ کیا جاتاہے اور یہ آمدنی ایک ایک جگہ رہتی ہے جو انجمن کی ضروریات میں خرچ کی جاتی ہے ۔
(۴) اب دریاجت طلب امر یہ ہے کہ ایسی انجمن میں شامل ہونا اور چندہ دینا شرعًا جائز ہے یا نہیں اور اپر تینوں قواعد میں شریعت کا کیا حکم ہے اگر جرمانہ لینا شرعًا نا جائز ہو تو انجمن کے قواعد کی خلاف ورزی کتے والے کے لئے کون سی سزادینی چاہیے جو شریعت کے مطابق ہو ، (محمد صدیق سیکرٹری انجمن اہلحدیث اگرہ)
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
بغرض رفاہ عام یا لغرض انتظام یہ شروط ہیں تو جائز ہے اور اگر یہ اور کسی نا جائز کام ناچ رنگ وغیرہ میں خرچ ہو تو ناجائز ہے آیت وَلَا تَعَاوَنُوا۟ عَلَی ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ.
(۶شعبان ۴۷ء )
فتاویٰ ثنائیہ
جلد 2 ص 431