فهرس الكتاب

الصفحة 800 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اوقات نماز کے علاوہ کھیلوں وغیرہ کے وقت نیکر پہننے کے بارے میں کای حکم ہے' جب کہ اس سے کسی فتنہ میں مبتلاہونے کا بھی کوئی اندیشہ نہ ہو/ امید ہے کہ دلائل کے ساتھ اس سوال کا جواب عطا فرمائیں گے' راہنمائی فرمائیں اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر سے نوازے ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

ہماری رائے میں ان نیکروں مثلًا کچھے وغیرہ پہننا جائز نہیں ہے، جن سے مقام خاص ہی چھپتا ہو اورسر دونوں رانوں کے اکثر حصے ننگے رہتے ہوں تو اسے کھیل میں استعمال کیا جائے یا بازار میں'خواہ نماز کا وقت نہ بھی ہو۔البتہ اس وقت اس قسم کے لباس کا استعمال قابل معافی ہے، جب انسان اپنے گھر میں کسی پرائیوٹ کا م میں مصروف ہو اور اسے کوئی نہ دیکھ رہا ہو۔اس کی دلیل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے جرہد اسلمی کو دیکھا کہ ان کا تہبند ان کی ران کے کچھ حصے سے ڈھلک گیا ہے تو آپ نے فرمایا:

! غط فخذیک فان الفخذین عورة )) (مسند احمد:5/29- والمستدرک علی الصحیحین للحاکم:4/18-' ح: 7361 )

اپنے دونوں رانوں کو ڈھانپ لو کیونکہ ران پردہ ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص268

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت