فهرس الكتاب

الصفحة 1902 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ایک شخص جوسود کوجائزکہتا ہے (جس کا تذکرہ پہلے سوال میں کیا جاچکاہے۔) کیا اس کی اقتداءمیں نماز ہوسکتی ہے یا نہیں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

معلوم ہونا چاہئے کہ سودکی حرمت قطعی ہے اوراس پراجماع ہے۔لہذاجوشخص سودکوعمدًاہرحالت میں حلال وجائز سمجھے گاوہ بلاشبہ کافرہے،پھرجوشخص کافر (اسلام سے خارج) ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا توسوال ہی پیدانہیں ہوتا۔کمالایخفی

باقی مذکورہ صورت میں (یعنی بحالت اضطرارسودکے استعمال کوجائز سمجھنے والے) ایسےشخص کی اقتدامیں نمازجائز ہے کیونکہ مذکورہ شخص سودکوہرصورت میں جائز نہیں سمجھتابلکہ وہ شخص اضطراری صورت میں جائز سمجھتا ہے ۔چونکہ پہلے سوال کے جواب میں تفصیل کےساتھ عرض کیا گیا کہ سودبحالت اضطرارجائز ہے کیونکہ اضطراری حالت کو عام حکم سے مستثنی قراردیاگیا ہے۔لہذا ایسے شخص کوکافرنہیں کہاجائے گااوراس کے پیچھے بشرطیکہ صحیح العقیدہ ہونمازجائز ہے وہ شخص اس مسئلہ کی وجہ سے امامت سے خارج نہیں ہوسکتا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 470

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت