فهرس الكتاب

الصفحة 788 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

بغیر ضرورت کے مردوں کے لئے اپنی آنکھوں میں سرمہ استعما ل کر نے کاکیا حکم ہے ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

سرمی کی دوقسمیں ہیں:

(1) وہ جو تقویت بصر آنکھ کے پردہ کو جلا بخشنے اور آنکھ کی نظا فت و طہارت کے لئے استعمال کیا جا ئے اور اس میں جما ل کا پہلو نہ ہو تو اس میں کو ئی حرج نہیں بلکہ ان مقا صد کے لئے سرمے استعما ل کر نا چاہئے کیو نکہ نبی ﷺ سرمی استعمال فر مایا کر تے تھے خصوصًا جب کہ وہ اصلی اثمد ہو تا ۔

(2) وہ جو محض زینت و جما ل کے لئے استعمال ہو تو یہ عورتوں کے لئے ہے کیو نکہ عورت سے مطلوب یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کے سامنے زیب و زینت کا اظہا ر کر ے ۔مردوں کے لئے اس کے استعمال کا کیا حکم ہے مجھے یہ معلو م نہیں ؟

ہذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1 ص38

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت