فهرس الكتاب

الصفحة 75 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا اس طرح کے پروگرام میں شرکت کی اجازت دینے والا بچی کا وارث گناہ گار ہو گا؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

ہر وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے کسی کی نگرانی سپرد کی ہو وہ اپنی رعایا کے بارے میں جوابدہ ہے، ہر طالبہ کا وارث چاہے وہ باپ ہو یا اس کے کوئی قائم مقام وہ اس کے بارے میں جوابدہ ہے، اگر وہ اسے اسلامی آداب سکھائے، احسن انداز میں اس کی تربیت کرے او راسے شروفساد میں مبتلا ہونے سے بچائے تو اللہ تعالیٰ اسے اجر و ثواب سے نوازے گا اور اس عزت و آبرو کی حفاظت بھی فرمائے گا اور اگر وہ اس کی غلط تربیت کرے، یاتربیت کی طرف دھیان ہی نہ دے یا اسے فتنے و فساد اور لہو و لعب کے مقامات کی طرف دھکیل دے تو وہ اپنی ذمہ داری کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے یقینًا گناہ گار ہو گا، اس کاانجام بھی برا ہو گا اور وہ اپنی اس ناعاقبت اندیشی کا یقینًا خمیازہ بھی بھگتے گا، جو دنیا کی ذلت اور آخرت کے عذاب کی صورت میں ہو سکتا ہے الاّ یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص98

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت