فهرس الكتاب

الصفحة 253 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

داڑھی منڈانے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ دونوں رخساروں کے بالوں کے مونڈنے کے بارے میں کیا حکم ہے نیز داڑھی اورمونچھوں دونوں کے چھوڑدینے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

داڑھی منڈوانا جائز نہیں ہے کیونکہ صحیح حدیث سے یہ ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

"یَکُونُ قَوْمٌ فِی آخِرِ الزَّمَانِ یَخْضِبُونَ بِہَذَا السَّوَادِ - قَالَ حُسَیْنٌ کَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ - لَا یَرِیحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ"

نیز نبی ﷺ نے فرمایا:

"جُزُّوا الشَّوَارِبَ، وَأَعْفُوا اللِّحَی، وَخَالِفُوا الْمَجُوسَ" (صحیح مسلم * الطہارة ،باب خصل الفطرة ،ح 260)

مونچھیں منڈواؤ ،داڑھی بڑہاؤ اورمجوسیوں کی مخالفت کرو ۔''

داڑھی ان بالوں کانام ہے ، جو رخساروں اور ٹھوڑی پر اگیں جیسا کہ صاحب ''قاموس '' نے اس کی وضاحت کی ہے ، لہذا واجب یہ ہے کہ رخساروں اور ٹھوڑی پر اگنے والے بالوں کو چھوڑدیا جائے اور انہیں مونڈا یا کاٹا نہ جائے ۔ اللہ تعالی تمام مسلمانوں کے حالات کی اصلاح فرمائے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص442

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت