السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بیع وشرا داد وسند کرنا دانستہ یا نادانستہ سودخوار سے کہ اکثر مال اس کا جائز ہے۔ یا ناجائز بحوالہ کتب فقہ تحریرفرمایا جائے۔ بینواتوجروا
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
دانستہ بیع وشرا داد وسندسود خوار سے کہ اکثر مال اس کا حرام ہے۔ جائز نہیں اورنادانستہ موجب حرمت ومعصیت کا نہیں ہے۔ الحرمۃ منتقل بالعلم کذا فی الددر المختار وغیرہ واللہ اعلم بالصواب حررہ سید شریف حسین عفی عنہ۔ سید محمد نزیر حسین (فتاویٰ نزیریہ ج2 ص 42)
فتاویٰ ثنائیہ
جلد 2 ص 364