فهرس الكتاب

الصفحة 117 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کر تا پو ر سے خلیل الرحمن سوال کر تے ہیں عورتو ں کا جلسہ کر نا پھر اس میں کسی عورت کا تقر یر کر نا شر عًا کیسا ہے اس پر بعض لوگ اعترا ض کر تے ہیں ۔

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

دعوت و تبلیغ ہر مسلما ن مر دو زن کا حق ہے ارشا د با ر ی تعا لیٰ ہے مؤ من مر د اور عورتیں ایک دوسر ے کے خیر خوا ہ ہیں وہ اچھی بات کا حکم دیتے ہیں اور بر ی باتوں سے منع کر تے ہیں ۔ (9/التو بہ:71)

اس آیت کر یمہ میں اہل ایما ن خو اتین و حضرا ت کی یہ خو بی بیا ن کی گئی ہے کہ وہ امر با لمعرو ف اور انہی عن المنکر کا فر یضہ سر انجا م دیتے ہیں جس طرح مر د کو اچھی با ت کہنے اور بر ی با ت سے رو کنے کا حق ہے اسی طرح عورت بھی اس حکم کی پا بند ہے کہ وہ اچھی با ت کا حکم دے اور بر ی با ت سے دوسروں کو منع کر ے صدر اول میں وعظ و تبلیغ کے لیے موجودہ اجتما عات کا طریقہ رائج نہ تھا کہ با قا عدہ جلسہ اور کانفرس کا اہتما م کیا جا تا ان کا جوا ز بھی قرآن و حدیث کی عمومی نصوص سے ہےعورتو ں کا جلسہ کر نا اور اس میں کسی مبلغہ خا تو ن کا تقر یر کر نا بھی اسی قبیل سے ہے البتہ خو اتین کے لیے درج ذیل شرائط ملحوظ رکھنا ضرو ری ہے ۔

(1) عورت جب گھر سے نکلے تو با پردہ ہوا ور مہکنے وا لی خو شبو استعما ل نہ کر ے ۔

(2) اپنے سر پر ست یا خا و ند کی اجا زت سے اجتما ع میں شر یک ہو ۔

(3) تبلیغی اجتما ع اگر گھر سے دور ہو تو ایسے سفر پر نکلنے کے لیے اپنے محرم کو سا تھ لے کر جا ئے ،

(4) تقریر کا اندا ز با لکل سا دہ اور فطر تی ہو مو جو د را ئج الو قت نقا لی اور را گ سے اجتنا ب کر ے ۔

(5) مقررہ جب تقریر کے لیے آئے تو آرائش و نما ئش سے مبرا ہو کر آئے ۔

(6) اجتما ع صرف خو اتین کا ہو اس میں کسی پہلو سے بھی مر دو ں کا اختلاط نہ ہو ۔ ان شرا ئط کو ملحو ظ رکھتے

ہو ئے خواتین دعوتی اور اصلاحی پرو گرا م منعقد کر سکتی ہیں (واللہ اعلم با لصوا ب )

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص446

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت