فهرس الكتاب

الصفحة 1475 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کما لیہ سے عبد العلیم لکھتے ہیں کہ بھینس کا ذکر قرآن وحدیث میں نہیں ہے اس کے حلال ہو نے کا فیصلہ کیسے کیا جا ئے گا وضا حت کر یں ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

تمام جا نو روں کے نا م بنا م حلت و حر مت کا ذکر قرآن و حدیث میں نہیں ہے شر یعت میں حر مت کے متعلق چند ایک اصول بتا دئیے گئے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:

(1) وہ تمام جا نو ر حرا م ہیں جن کی حر مت کے متعلق صرا حت آچکی ہے جیسا کہ گھر یلو گد ھے ہیں ۔

(2) جو جا نو ر کچلی والے ہیں وہ بھی حرا م ہیں جیسا کہ چیتا اور بھیڑیا وغیرہ۔

(3) جو جا نو ر پنجے سے شکا ر کر تے ہیں اور پنجے سے ہی پکڑ کر کھا تے ہیں جیسا کہ با ز اور کو ا وغیرہ

(4) جن جا نو روں کو ما ر نے کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ سا نپ اور دیگر موذی جا نو ر ۔

(5) جن جا نو روں کو ما ر نے سے منع کیا گیا ہے جیسا کہ مینڈک وغیرہ ۔ ان کے علا وہ تمام جا نو ر حلا ل ہیں بھینس بھی انہی حلال جا نو روں میں شامل ہے ویسے بھی بے شما ر ایسے پر ندے ہیں جن کا ذکرصرا حت کے ساتھ نہیں ہوا کہ یہ حلال ہیں لیکن اس کے با و جو د ہم انہیں حلال سمجھتے ہیں مثلًا: مر غا بی اور تیتر وغیرہ لہذا یہ اصول غلط ہے کہ جس کی حلت یا حرمت کا ذکر صراحت کے ساتھ قرآن یا حدیث میں آجا ئے وہی حلا ل یا حرا م ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص462

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت