فهرس الكتاب

الصفحة 458 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا بہت زیادہ باریک کپڑے سے بھی ستر پوشی ہوجاتی ہےیا نہیں؟ مسلمان نے جب باریک کپڑا زیب تن کیا ہوتو کیا اس میں نماز ہوجائے گی؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جب کپڑا اس قدر باریک ہو کہ وہ بدن کو نہ چھپائے تو اس میں نماز نہیں ہوگی الا یہ کہ مرد نے ایسے لباس کے نیچے شلوار یا تہہ بند بھی پہن رکھا ہو جو ناف سے لیکر گھٹنے تک کے حصے کو چھپائے ہوئے ہو۔ عورت کے لیے بھی ایسے کپڑے نماز میں صحیح نہیں الا یہ کہ اس نے نیچے ایسا لباس پہنا ہوا ہو جو اس کے سارے بدن کو چھپائے ہوئے ہو۔ایسے کپڑے کے نیچے محض چھوٹی سی شلوار پہن لینا کافی نہیں ہوگا۔مرد کو چاہیے کہ وہ جب اس طرح کے باریک کپڑے میں نماز پڑھے تو اپنے اوپر ایک کپڑا ڈال لے جو اس کے دونوں یا ایک کندھے کو ڈھانپ لے کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے:

(( لا یصلی احدکم فی الثوب الواحد لیس علی عاقیہ شئی ) ) (صحیح البخاری 'الصلاة 'باب اذا صلی فی الثوب الواحد فلیجعل علی عقبیہ ّح: 359 وصحیح مسلم 'الصلاة 'باب فی الثوب الواحد' ح: 516)

"تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کوئی چیزنہ ہو۔"

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص264

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت