فهرس الكتاب

الصفحة 1124 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

جائز ہے منع کی کوئی دلیل نہیں، (۳۱مارچ ۱۹۱۶ء؁)

تشریح:۔

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں منگالہ میں دستور ہے کہ بچھڑا خریدنےکےبعد دوسرے کو دے دیتے ہیں ، جب وہ بڑا ہو جاتا ہے تو خریدنے والا اس کو بیچ کر پوری قیمت کے دو حصے کرکے ایک حصہ خود اور ایک حصہ پالنے ؤالے کو ، یا بعد اصل قیمت کے ایک حصہ خود لیتے ہیں اور ایک حصہ پالنے والے کو دیتے ہیں پس یا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب:۔ معاملہ مذکورہ جائز ہے ، کیوں کہ یہ منجملہ صور شرکت کہ ہیں اور شرکت کا جواز نصوص کثیر سے ثابت ہے ،

عن ابی ہریرۃرضی اللہ تعالی عنہ مر فو عًا قال اللہ تعالیٰ اناثالث الشریکین الحدیث اخرجہ ابوداؤد

اور کوئی وجہ اس کی ممانعت کی پائی جاتی ، ونیز

حدیث المسلمون علی شہر و طہم الحد یث اخرجہ الترمذی وغیرہا

اس کی صحت و جواز پر وال ہے اللہ اعلم، (سید محمد نذیر حسین )

(فتاوی نذیر یہ ج نمبر۷۸)

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 402

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت