فهرس الكتاب

الصفحة 339 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

ان عورتوں کو دیکھنے کے بارے میں کیا حکم ہے جو بن ٹھن کر ٹیلی ویژن کی سکرین پر نمودار ہوتی ہیں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

عریاں یا نیم عریاں بے پردہ عورتوں کی طرف دیکھنا جائز نہیں ہے، اسی طرح ان مردوں کی طرف دیکھنا بھی جائز نہیں ہے جنہوں نے اپنی رانیں ننگی کی ہوئی ہوں، ایسے مردوں اور عورتوں کو ٹیلی ویژن ، ویڈیو، سینما یا کسی اور بھی جگہ دیکھنا جائز نہیں ہے بلکہ آنکھیں جھکانا اور ایسے مردوں عورتوں کی طرف دیکھنے سے اعراض کرنا واجب ہے کیونکہ یہ فتنہ ، دلوں کی خرابی اور ہدایت سے انحراف کا سبب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہے:

{قُل لِلمُؤمِنینَ یَغُضّوا مِن أَبصـٰرِ‌ہِم وَیَحفَظوا فُر‌وجَہُم ۚ ذ‌ٰلِکَ أَزکیٰ لَہُم ۗ إِنَّ اللَّہَ خَبیرٌ‌ بِما یَصنَعونَ 30} وَقُل لِلمُؤمِنـٰتِ یَغضُضنَ مِن أَبصـٰرِ‌ہِنَّ وَیَحفَظنَ فُر‌وجَہُنَّ... {31} ... سورة النور

'' اے نبیﷺ! مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں اور یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے (اور) جو کام یہ کرتے ہیں، اللہ ان سے خبردار ہے اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں۔''

اور حدیث میں حضرت محمدﷺ کا یہ فرمان موجود ہے:

(( النظرة سہم من سہام إبلیس ) )المستدرک)

'' نظر شیطان کے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔''

نظر کا خطرہ بہت عظیم ہے لہٰذا اس سے بچنا چاہیے، انسان کو چاہیے کہ اپنے آپ کو اس سے بچائے اور ٹیلی ویژن کے صرف ایسے پروگرام دیکھے جن میں مصلحت ہو مثلًا دینی، علمی یا فنی پروگرام ، باقی رہیں حرام اشیاء تو انہیں دیکھنا جائز نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص83

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت