السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین بابت مندرجہ ذیل مسائل کے:
اس سے پیشتر کہ مطلوبہ سوالات پیش کیے جائیں مناسب ہو گا کہ جس کمپنی سے یہ سوالات متعلقہ ہیں اس کا مختصر تعارف بھی کرا دیا جائے اور اس کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کر دیا جائے۔ سو اس کمپنی کا نا (گولڈن کی انٹرنیشنل) ہے یہ اپنی مصنوعات کی تشہیر اور فروخت دوسری کمپنیوں کی طرح میڈیا وغیرہ و دیگر ایجنٹوں و ہول سیل و ریٹیل ڈیلرز سے نہیں کرتی بلکہ ڈائریکٹ یعنی بلا واسطہ اشیاء کے استعمال کنندگان سے رابطہ کر کے انہیں اپنی مصنوعات ( اشیاء) کی افادیت اور ان کی مارکیٹنگ یعنی مزید ایسے لوگوں کے ہاتھوں فروخت کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ جو لوگ تھوڑے سے سرمایہ کے ساتھ باوقار اور حلال روز گار کے متلاشی بھی ہیں اور انہیں ان اشیاء کی ضرورت بھی ہے لہٰذا جو شخص ان کی اشیاء کی افادیت اور ان کی اشیاء کی مارکیٹنگ کے طریقہ کار کو سمجھ جاتا ہے تو پھر وہ اس کمپنی کی مصنوعات میں سے کوئی سی رقم کی مصنوعات خرید لیتاہے تو کمپنی اس کو اپنا ایک ممبر بنا لیتی ہے اور اس کو اپنے ایک ایجنٹ و ایڈور ٹائزر کے طور پر استعمال کرتی ہے ۔ اب یہ شخص مثلًا ''الف'' اپنے نیچے کے ایک اور '' ب'' نامی خریدار کو لے آتا ہے کمپنی الف کو بلا واسطہ خریدار بنانے پر کچھ کمیشن دیتی ہے اور ''ب'' نامی شخض '' ج'' نامی شخص کو خریدار بناتا ہے اس طرح 'ج'… ''دال'' کو خریدار بناتا ہے گویا کہ الف کے نیچے جتنے بھی خریدار بنتے چلے جائیں گے وہ ''الف'' نامی شخص کی ڈاؤن لائن میں کہلائیں گے۔ ان سب کو ان کی محنت پر بلا واسطہ اور بالواسطہ خریدار بنانے پر کمپنی کمیشن دیتی رہے گی۔ ایسا نہیں ہوتا کہ الف نامی شخض ''ب '' کو خریدار (ممبر) بنا کر بیٹھ رہے اور اس کو بغیر مزید کام و محنت کیے کمیشن ملتا رہے بلکہ ''الف'' کو مسلسل اپنی ڈاؤن لائن کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے تب ہی اس کو اپنی ڈاؤن لائن سے کمیشن ملے گی اسی طرح ''ب'' کو اور ''ج'' اور ''د'' کو غرضیکہ ہر ایک کو اپنی ڈاؤن لائن کے ساتھ مل کر کام کرنا پڑتا ہے تب ہی وہ کمیشن لے پاتے ہیں اگر کام نہیں کریں گے تو کمپنی کی مصنوعات کے خریدار بھی پیدا نہیں ہوں گے تو پھر کمپنی کہاں سے کمیشن دے گی۔ کمپنی تو اس کا مال فروخت ہونے پر ہی کمیشن دے سکتی ہے۔ کمپنی اس ممبر کو ترقی دے کر سپر وائزر سے مینجر اور مینجر سے ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بناتی ہے جو کمپنی کی زیادہ سے زیادہ پراڈکٹس ( مصنوعات) فروخت کرواتا ہے۔ اسی طرح ان ممبروں کے عہدوں کے ساتھ ساتھ کمیشن بھی بڑھتا جاتاہے ۔ کمپنی کی مصنوعات میں سے کوئی چیز بھی حرام شے سے تیار نہیں ہے بلکہ سب حلال و طیب اشیاء میں سے ہیں۔ اس مختصر تعارف کے بعد مندرجہ ذیل سوالات پیش خدمت ہیں اُمید ہے قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائی جا وے گی:
(۱) … کوئی شخص اگر بلا تحقیق کسی مسلم یا غیر مسلم (حالات حرب کے علاوہ) کے خلاف کوئی سنی سنائی بات یا پروپیگنڈہ کرتا ہے تو شریعت اسلامیہ میں اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
(۲) … مندرجہ بالا حالات و واقعات کے پیش نظر کمپنی متذکرہ بالا کے ساتھ کاروبار کرنا قرآن و سنت کی روشنی میں کیسا ہے؟
(۳) …کمپنی کے ساتھ مندرجہ بالا طریقہ کار کے تحت کاروبار کر کے کمپنی سے متذکرہ بالا کمیشن لینا شرعی حیثیت میں کیسا ہے؟
(۴) …اگر کسی مومن نے کسی فرد ، تنظیم یا ادارہ کے خلاف کوئی غلط خبر بلا تصدیق و تحقیق عوام الناس میں کسی ذریعہ سے پھیلا دی ہو تو کیا اس مومن بھائی کو چاہیے کہ وہ صحیح بات کا علم ہونے کے بعد اپنی اس غلطی کے ازالہ کے لیے وہی ذریعہ استعمال کرتے ہوئے اپنی اس پہلی غلط خبر کی تردید کرے اور متاثرہ فرد ، تنظیم یا ادارہ سے معافی مانگے ؟ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو کیا اس شخص کا اللہ تعالیٰ کے ہاں اللہ تعالیٰ کی زمین پر فساد پھیلانے والوں میں شمار ہو گا یا اصلاح کرنے والو ں میں ؟
(۵) …کیا دین اسلام میں ایسی ہی اشیاء کا مہنگا فروخت کرنا یا ان کو مہنگی فروخت کرنے کی غرض سے صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہ علیہ السلام (ذخیرہ اندوزی) کرنا جو انسانی زندگی کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے ( مثلًا روز مرہ کی خوراک سے متعلقہ اشیاء اور ایک انسان کے لباس سے متعلقہ کپڑا وغیرہ) ممنوع و حرام ہے یا ا ن کے علاوہ بھی دیگر اشیاء جن کے بغیر انسان زندہ رہ سکتا ہے اور اچھے طریقہ سے گزر اوقات کر سکتا ہے ان اشیاء کا مہنگا فروخت کرنا بھی ممنوع و حرام ہے ؟ کیا ہر انسان کے لیے یہ ضرور ی ہے کہ وہ اپنے لباس کے لیے ایسا مہنگا کپڑا خریدے جو اس کی قوتِ خرید سے باہر ہے جبکہ وہ اس مہنگے کپڑے کی بجائے سستا کپڑا لے کر بھی گزارہ کر سکتا ہے اور اسی طرح مہنگے پھلوں مثلًا سیب وغیرہ کی بجائے وہ شخص کسی حد تک وہی فائدہ گاجر اور شلجم وغیرہ سے حاصل کر سکتا ہے ( جو سستے داموں دستیاب ہو جاتے ہیں) تو کیاایسی اشیاء کا بھی مہنگا فروخت کرنا ممنوع و حرام ہے۔۔
حلفًا تصدیق کی جاتی ہے کہ مندرجہ بالا تحریر و سوالات سائل کے حد علم و یقین میں صحیح و درست ہیں اور ان کی صحت کا خود ذمہ دار ہے۔ (راؤعبید الرحمن خاں، سابق ڈپٹی سٹیبلشمنٹ کمشنر)
الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
جس کمپنی کے متعلق آپ نے ایک سوالنامہ ارسال فرمایا اس کمپنی اور اس نوع کی دیگر کمپنیوں کا کاروبار ناجائز اور حرام ہے جناب اس کی تفصیل چاہتے ہیں تو مجلۃالدعوۃ جلد۱۳، رجب۱۴۲۳ھ ، شمارہ ۹ میں شائع شدہ مضمون''لوٹ کھسوٹ کی سکیمیں اور کمپنیاں'' کا مطالعہ فرما لیں۔ ۲۹/۷/۱۴۲۳ھ
قارئین کرام! کچھ عرصہ قبل انعامی بانڈز اور ان کی پرچیوں کا ملک میں بڑا شہرہ ہوا۔ لوگوں کو اس کاروبار میں اس قدر چسکا نظر آیا کہ نہ صرف غریب مزدور اپنی تمام پونجی اس کاروبار کی نذر کرنے لگے بلکہ اچھے بھلے کاروبار کرنے والوں نے بھی یہی کاروبار اپنالیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے کپڑے ، میڈیسن ، جنرل سٹورز اور ہوٹل وغیرہ انعامی بانڈز کی دکانوں میں بدل گئے اور ہر بازار میں آدھی دکانیں یہی نظر آنے لگیں یہ کاروبار اگرچہ اب بھی جاری ہے لیکن حکومت کی طرف سے کچھ نوٹس لینے پر اب کافی کمی آ چکی ہے۔ اس کے عروج پر حالت یہ ہو گئی تھی کہ ۴۲ ارب کے بانڈز ڈیلرز کے پاس تھے اور حکومت اس قدر یرغمال ہو گئی تھی کہ کم از کم پرچی کے کاروبار کی بد عنوانیاں اور لوٹ کھسوٹ روکنے سے بھی قاصر ہوگئی تھی اور عوام کی ایک بڑی رقم محض بانڈوں کے بے کاروبے مصرف کاروبار میں بلاک ہو گئی تھی۔ معاشرے کے لیے اصل فائدہ مند کاروبار کارخانے اور صنعتیں بند ہونا شروع ہو گئے ،سود اور جوئے وغیرہ کے کاروبار میں ہوتا ہی یہ ہے کہ معاشرے کاایک کثیر سرمایہ بے کار کام کی نذر ہو جاتا ہے اور لوگ محنت کر کے اور اس معاشرے کے لیے مفید چیزیں بنا کر پیسہ کمانے کی بجائے بیٹھے بٹھائے ہی کھانا چاہتے ہیں جس سے ملک کی اصل ترقی رُ ک جاتی ہے ۔ اس میں چند لوگوں کی تو چاندی ہو جاتی ہے ، چند لوگ سرمایہ دار بن جاتے ہیں اور باقی اپنی قسمت کو روتے پیٹتے رہتے ہیں ۔ انعامی بانڈز کی ان سکیموں میں ابھی کچھ کمی ہوئی تھی کہ یہ صیاد لوگوں کی رقوم بے کار کاموں میں لگانے کے لیے نئی سکیموں کا جال لے کر آ گئے۔
تین ماہ قبل دولت مند بننے کی ایک ایسی ہی شارٹ کٹ سکیم کا علم ہوا تو ہم نے اس سکیم کے پس پردہ مسلم نوجوانوں کو لوٹنے کھسوٹنے کے مقاصد کو بھانپ کر فوری طور پرمجلہ الدعوۃ میں قارئین کو عمومًااور وابستگان کتاب و سنت کو خصوصًا اس شیطانی دھوکے سے خبردار کر دیا۔ اس سلسلے میں جماعت کے بہت سے جید علماء نے بھی اس سکیم کی مذمت کی جن کی ناپسندیدگی اور مذمت کے بارے میں بھی ہم نے آگاہ کر دیا ۔ ہمارا خیال تھا کہ اتنا کچھ اس سکیم کے سدِ باب کے لیے کافی رہے گا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے حالات بنتے گئے کہ جن کی وجہ سے علماء کی آراء کی روشنی میں اس سکیم کا تفصیلی جائزہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ ایک طرف بہت سے احباب اور درد مندانِ ملت و جماعت کا اصرار تھا کہ اس سکیم کا مفصل و مدلل جائزہ پیش کیا جائے تاکہ لوگوں کو اس طرف جانے سے مکمل شرح صدر کے ساتھ روکا جا سکے ، دوسری طرف یہ معتبر اطلاعات تھیں کہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد اس سکیم میں شامل ہو رہی ہے اور ان کی تعداد تیس ہزار سے متجاوز ہو رہی ہے ، اسی اثناء میں یہ بھی معلوم ہوا کہ آج کل ملک میں صرف یہی ایک سکیم نہیں بلکہ اس سے ملتی جلتی کتنی ہی سودی و قماری سکیمیں خود رو جھاڑیوں کی طرح پھیل چکی ہیں اور ڈائن کی طرح ملک کے نوجوانوں کا مال و خون چوس رہی ہیں۔ کہیں تو کوئی سکیم بغیر کوئی چیز فروخت کیے محض پیسوں کے ادل بدل سے چند ہزار لگا کر لاکھوں روپے حاصل کرنے کا لالچ دیتی ہیں ، کہیں علماء کے براہِ راست فتوے سے بچنے کے لیے چند اشیاء کی سیل کا جھانسہ بھی درمیان میں رکھ دیا گیا ہے اور وہ بھی بہت مہنگی لیکن باقی سارا طریقہ اور مقصد تقریبا وہی ہے ، یعنی معمولی پیسے لگا کر زیادہ سے زیادہ دولت اکٹھی کرنا۔ اگر اشیاء فروخت کرنا ان کا مقصد ہوتا تو یہ تجارت کے معروف شفاف طریقے اختیار کرتے لیکن چونکہ ان کا اصل مقصد یہ نہیں تھا بلکہ اصل مقصد ہیر پھیر کا وہ طریقہ تھا جس کے ذریعے چند سو یا چند ہزار روپے لاکھوں کروڑوں میں بدل جائیں ، اس لیے ان سکیموں میں اشیاء کی فروخت کا وجود یا عدم وجود تو ہو سکتا ہے لیکن تمام سکیموں میں تھوڑی ہیر پھیر کے ساتھ مارکیٹنگ کا وہ گورکھ اور پیچیدہ طریقہ لازمی اور مشترک ہے کہ جس کے بغیر کمپنی اور ممبران اپنے اصل مقصد یعنی معمولی رقم اور برائے نام محنت سے بے پناہ دولت کے مالک نہیں بن سکتے۔ چنانچہ انہی سب وجوہات کی بناء پر ان سکیموں کا ہم مفصل و مدلل جائزہ لینے پر مجبور ہو گئے۔
ان کمپنیوں میں سے ایک ورلڈ ٹریڈنگ نیٹ ہے جس میں صرف ۳۰۵۰ روپے جمع کروا کر ممبر کو بالآخر بارہ لاکھ مل جاتے ہیں ۔ اس میں کوئی چیز بیچنا نہیں پڑتی۔ صرف رقم کا لوگو ں میں ہیر پھیر ہے۔ اس کی تفصیل آگے علماء کے شرعی جائزہ میں آ جائے گی ۔ دوسری سکیم بزناس ( رضی اللہ عنہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے نام سے انٹر نیٹ پر کچھ پیکج دے کر ممبر سازی کرتی ہے جس کے نتیجے میں اصل رقم سے کافی زائد رقم کا لالچ دیا جاتا ہے۔ اس کی تفصیل بھی علماء کے شرعی جائزے میں ملاحظہ فرمائیں۔
گولڈن کی انٹر نیشنل۔ تعارف و احوال
تیسری کمپنی گولڈن کی انٹرنیشنل ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اسی سکیم سے تعارف حاصل ہوا۔ اس کے جس ممبر نے ہمیں تعارف کرایا وہ بڑا ہی خوبصورت ریلنگ والا ڈبہ اور ایک چمکتی دمکتی فائل لیے کھڑا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ اس کمپنی کی طرف سے ایک خاص قسم کا فوڈ سپلیمنٹ ہے جو ایک سفوف کی صورت میں ڈبے میں موجود ہے۔ یہ کمپنی سے ۱۹ ہزار روپے میں ملتا ہے۔ موصوف نے کہا کہ آپ بھی کمپنی جا کر اسے خریدیں تو نہ صرف اس سے آپ کی بہت سی بیماریوں کا علاج ہو گا بلکہ اس طرح آپ کمپنی کے ممبر بن کر ایسے کاروبار میں شریک ہو جائیں گے کہ آپ تھوڑے ہی عرصے میں معمولی وقت لگا کر لاکھوں حاصل کر لیں گے۔ یہ سب سن کر ہمارے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ ہم نے جب سوال کیا کہ یہ آخر کون سی بیماریوں کا علاج ہے تو فرمایا کہ یہ شوگر ، بلڈ پریشر ، ہیپا ٹائٹس ، دل اور کینسر سمیت بہت سی بیماریوں کا علاج ہے اور کئی لوگوں کو اس سے فائدہ ہوا ہے جس کے شواہد موجود ہیں۔ ہم نے کہا: اگر کمپنی نے اتنی بڑی ایجاد کی ہے پھر تو اسے اخبارات میں فورًا اشتہار دینا چاہیے۔ اس سے تو طب و سائنس کے میدان میں ہلچل مچ جائے گی اور جو منافع کمپنی نے لمبے عرصے کے بعد حاصل کرنا ہے ، وہ اخبارات میں اشتہاردے کر بہت تھوڑے عرصے میں حاصل کر لے گی۔ اس پر موصوف کبھی تو جواب دیتے کہ کمپنی دراصل غریب عوام کی بھی بھلائی چاہتی ہے کہ نہ صرف انہیں صحت ملے بلکہ ہمارے مخصوص طریقہ کاروبار میں شامل ہو کر ایسا کاروبار بھی ملے کہ جس میں انہیں اپنی اصل رقم سے بھی کئی گنا زیادہ رقم واپس مل جائے۔ اور کبھی وہ کمپنی کی اشیاء اور طریقہ کاروبار پر ہمارے سوالات و اعتراضات پر کہتے کہ دراصل ہم آپ کو قائل نہیں کر سکتے۔ کمپنی کے دفتر میں نئے لوگوں کے لیے روزانہ لیکچر ہوتا ہے آپ وہاں ایک دفعہ آئیں۔ آپ کو ہر بات کلئیر ہو جائے گی۔
بعد کی ملاقاتوں میں آخر یہ عقدہ بھی کھل گیا کہ انہیں دراصل زیادہ اعتراضات کا جواب نہ دینے کی ہی کمپنی سے ہدایت ہے کہ آپ خود قائل نہیں کر سکتے ۔ لوگوں کو کلاس میں لے کر آئیں۔بس اتنا ہی کافی ہے ۔ ہم حیران تھے کہ یہ خود بھی لیکچر سن چکے ہیں تو پھر اس لیکچر کا خلاصہ ہمیں یہیں کیوں نہیں بتا دیتے۔ بہر حال چار و ناچار حقیقت پانے کے لیے کمپنی ممبر کے ذریعے لاہور میں کمپنی کے دفتر پہنچے جو گلبرگ میں دو کنال کے قریب عالی شان کوٹھی میں قائم ہے۔ وہاں ہم یہ دیکھ کر حیران تھے کہ مخلوط ماحول اور فیشن ایبل نوجوانوں کے ساتھ بڑی بڑی داڑھیوں والے بھی کافی تعداد میں موجود تھے۔ کلاس میں جانے سے پہلے یہ بھی ہدایت تھی کہ بند جوتیوں یعنی بوٹ وغیرہ کے بغیر داخلہ ممکن نہیں۔ معلوم ہوا یہ پابندی پہلے نہ تھی ابھی کچھ دنوں سے لگی ہے۔ شاید کمپنی والوں کو ڈر تھا کہ داڑھی والے عام سی جوتیوں میں کہیں کمپنی کے ماڈرن ازم کے تاثر کو خراب نہ کر دیں اور اس کی ویلیو ڈاؤن نہ ہو جائے۔ کلاس میں جوں ہی داخل ہوئے تو چھوٹا سا ہال زبردست موسیقی سے تھرا رہا تھا۔ لیکچر میں پہلے ایک ڈائریکٹر صاحب نے کمپنی کی اشیاء کی منفرد انقلابی و طبی خصوصیات بتائیں۔ دوسرے لیکچر میں کمپنی کی مارکیٹنگ کا طریقہ سمجھایا گیا ۔ یہ طریقہ جسے ملٹی لیول مارکیٹنگ سسٹم کہتے ہیں ، اس قدر پیچیدہ اور گنجلک تھا کہ خود کمپنی کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ پہلی دفعہ تو اس لیکچر کی بہت کم لوگوں کو پوری سمجھ آتی ہے چنانچہ کم پڑھے لکھے سادہ لوگ تو کیا ، اچھے بھلے تعلیم یافتہ لوگ بھی اس کو فوری نہیں سمجھ پاتے ، جبکہ دینی علم پڑھے ہوئے لوگ بھی چکرا کر رہ جاتے ہیں اور کوئی بھی اس سکیم کے جائز و ناجائز کا فیصلہ نہیں کر پاتا۔ اب ہمیں بھی سمجھ آئی کہ ہمارے واقف ممبر ہمیں کیوں ہمارے سوالوں کے جواب دینے سے گریزاں تھے۔ وجہ صاف ظاہر تھی کہ ابتداء میں عام ممبر کسی کو سمجھا کر قائل نہیں کر سکتا اور پھر کمپنی کی ہدایت تھی کہ آپ ایسے لوگو ں پر زیادہ وقت بھی ضائع نہ کریں جو زیادہ اعتراضات کریں۔ کلاس میں بھی صرف انہی لوگوں کو لائیں جو اس میں ''مثبت'' دلچسپی رکھتے ہوں ۔ اس پر اس قدر سختی ہے کہ لیکچر کے دوران ایک شخص کو تھوڑی سی اونگھ آ گئی تو اسے بھی دلچسپی نہ رکھنے والا مشکوک آدمی سمجھ کر نکال دیا گیا۔
لیکچر کے دوران بھی وقفے وقفے سے موسیقی جاری رہی ، یہ سب کچھ ہمیں برداشت کرنا پڑا۔ درمیان میں ہم نے سوال کرنے کی کوشش کی تو کہا گیا کہ سوال آخر میں کیجئے گا۔ لیکن آخر آتے ہی سوالوں کا موقع دیے بغیر کلاس ختم کر دی گئی۔
لیکچر میں بتایا گیا کہ اشیاء کی مارکیٹنگ کا یہ طریقہ ۶۲ سال پہلے امریکہ کے ہاورڈ بزنس سکول نے دوسری جنگ عظیم کے بعد متعارف کروایا۔ اس وقت امریکہ دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ اس سسٹم کی وجہ سے آج امریکہ امریکہ بنا ہوا ہے ۔ یہ اس کی معاشی و اقتصادی مضبوطی کا راز ہے۔بہت سے مغربی ملکوں میں کامیاب کاروبار کے بعد اب یہ سسٹم پاکستان آیا ہے جسے گولڈن کی انٹرنیشنل کے صدر جناب جاوید مجید نے دو سال قبل متعارف کروایا۔
انہوں نے یہ سسٹم تھائی لینڈ میں اپنے آٹھ سالہ قیام کے دوران سیکھا۔ کراچی ، حیدر آباد سے ہوتا ہو ااب یہ لاہور آیا ہے اور جلدہی ملتان ، فیصل آباد اور ملک کے دوسرے اہم شہروں میں بھی کمپنی کی برانچز کھلنے والی ہیں۔ کمپنی کا ماٹو صحت اور معاشی خوشحَالی یعنی سوال رکھا گیا ہے۔ بہت سے لوگ سٹی بینک اور ایسے بڑے بڑے اداروں کی اعلیٰ ترین پوسٹیں چھوڑ کر یہی کاروبار کر رہے ہیں۔
کمپنی کے لٹریچر اور لیکچردونوں سے یہ معلوم ہوا کہ دنیا میں جائز ذرائع سے کمانے کے طریقے بہت کم ہیں اور وہ صرف دو ہیں: (۱) …ملازمت ، (۲) … کاروبار۔
ملازمت میں اہلیت ، تعلیم ، تجربہ اور وقت کی پابندی لازمی ہوتی ہے ۔ تنخواہ بھی محدودسی ہوتی ہے چاہے محنت کم ہو یا زیادہ کاروبار میں سرمایہ ، تجربہ اور وقت توبیش بہا دینا ضروری ہوتا ہے۔ جبکہ اس سسٹم میں نہ تجربے کی ضرورت ہے ، نہ زیادہ تعلیم کی ، سرمایہ اور اہلیت کی اور نہ ہی بہت زیادہ وقت دینا پڑتا ہے ، بس معمولی سرمایہ اور معمولی وقت دے کر آپ اپنے سب خواب پورے کر سکتے ہیں ۔اس میں نوکری ، کاروبار کی طرح کوئی رسک بھی نہیں۔ کمپنی میں کوئی کسی کا باس نہیں ، سپر وائزر ، مینجر ، ڈائریکٹر وغیرہ کے عہدے محض اعزازی ہیں۔ (ویسے حال ہی میں گولڈن کی والوں نے اخبارات میں اپنے ایک اعزازی ڈائریکٹر برہان بصری کو کمپنی کے مفاد کے منافی سرگرمیوں کی بناء پر برطرف کرنے کا اشتہار دیا۔(ڈان ۱۱ /اگست ۲۰۰۲ئ) حیرانگی ہے کہ کمپنی میں جب کوئی باس نہیں تو انہیں کس نے برطرف کر دیا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ زیادہ سرمایہ جمع کرلینے والوں کو یا کمپنی کے اصل حقائق تک رسائی پا جانے والوں کو کمپنی فورًا اپنے کاروبار سے الگ کر دیتی ہے۔ اس طرح تو کسی کے سرمائے اور منافع کی کوئی گارنٹی نہیں رہتی۔ ویسے کمپنی آئے دن اپنے دفاتر کی جگہ بھی بدلتی رہتی ہے۔ اس صورت میں کبھی بھی کچھ ہو سکتا ہے اور ایسی کمپنیاں کئی بار پیسے لے کر بھاگ چکی ہیں۔ جیسا کہ ابھی حال ہی میں یہ مضمون تیار ہونے تک گولڈن کی انٹر نیشنل کے ملتے جلتے طریقے پر کام کرنے والی انٹر نیٹ کی کمپنی بزناس کو حکومت نے غیر قانونی قرار دیا ہے اور اس کے نمائندے غائب ہو گئے ہیں۔ ڈان۳۰/۸/۲۰۰۲)
اب سوال یہ ہے کہ جب یہ نوکری بھی نہیں کاروبار بھی نہیں، تو پھر آخر کیا ہے؟ ہم ایسے کتنے سوالات کا جواب چاہتے تھے اور پھر خاص طور پر انہوں نے مارکیٹنگ کا جو طریقہ بیان کیا ( جس کا ذکر آگے علماء کی آراء میں آئے گا) اس پر تو کتنے ہی سوالات جواب طلب تھے لیکن وہ سب تشنہ ہی رہے ۔ کلاس ختم کر د ی گئی۔
بعد ازاں ہم ان کے سر گرم ممبران سے بھی رابطہ کرتے رہے لیکن کوئی بھی ہم سے زیادہ بات کرنے کو تیار نہ تھا کیونکہ اس سے انہیں اپنے کاروبار کے وقت کا ضیاع محسوس ہوتا اور یہ بھی ڈر کہ بحث سے کوئی کمزور بات ہمارے ہاتھ نہ آ جائے ۔ایسے بندوں کے بارے کمپنی سے چونکہ پہلے ہی ہدایت ہے کہ آپ دلچسپی نہ لینے والوں پر یا معترضین پر قیمتی وقت ضائع نہ کریں ، اس پر سب ہی عمومًا سختی سے عمل کرتے ہیں ۔ یہ ہدایت صرف گولڈن کی والوں کی طرف سے نہیں بلکہ ہر دوسری سکیموں کی طرف سے بھی اپنے ممبران کو یہی بات سختی سے بتائی گئی ہے۔ مثلًا ورلڈ ٹریڈنگ نیٹ ورک نامی سکیم کے کوپن میں بتایا گیا ہے:
''آپ کوپن ہمیشہ ان لوگوں کو ہی دیں جو اس میں خود دلچسپی لیں اور اس کو آگے چلانے کی اہلیت رکھتے ہوں۔ آپ ہر گز ہر گز یہ کوپن کسی بھی شخص کو زبردستی نہ دیں''
پھر ''گولڈن کی '' کے لیکچر میں اور دوسری سکیموں میں بھی یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ زیادہ مخیر لوگوں کے پاس نہ جائیں۔ انہیں چونکہ دولت کی زیادہ ضرورت نہیں اس لیے وہ بھی اعتراض کر کے وقت ضائع کریں گے۔ ایسے لوگوں کے پاس جائیں جو غریب یا متوسط ہوں البتہ کمپنی کی ڈیمانڈ کی حد تک رقم رکھتے ہوں اور اپنا فیصلہ خود کر سکتے ہوں تاکہ آسانی سے کمپنی کو اپنی ساری جمع پونجی حوالے کر سکیں۔
صورتحال یہاں تک ہے کہ ماڈل ٹاؤن دفتر کے مسئول بھائی محمد رمضان نے ایک دفعہ کلاس میں ان کا لیکچر ٹیپ کرنے کی کوشش کی تاکہ علماء کو بطورِ ثبوت براہِ راست کمپنی کے ذمہ دار کی زبانی کمپنی کا طریقہ پیش کر کے ان کی رائے لی جا سکے تو کمپنی والوں نے ان کو پکڑ لیا اور ان سے کہا کہ وہ کیسٹ ہمیں دے دیں ورنہ ہم ٹیپ بھی واپس نہیں کریں گے ۔ کمپنی کے کافی لوگ جمع ہو گئے اور بالآخر انہیں دھمکیاں دے کر اور زدو کوب کر کے ان سے کیسٹ لے لی۔ مقصد یہ ہے کہ کسی کو کمپنی کے کام کی تفصیلات پورے ثبوت کے ساتھ نہ مل سکیں ۔ یہ اپنے کاروبار کی مکمل تفصیلات تحریری صورت میں بھی پیش نہیں کرتے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک تو علماء کو پوری حقیقت کاپتہ نہ چل سکے اور دوسرے ضرورت پڑنے پر وہ کسی ممبر کے ساتھ جو چاہے سلوک کر یں اور جو چاہے قانون بنا کر پیش کر دیں۔
کچھ ڈسے ہوئے ممبران کی حالت:
ایسے ایک ممبر سے ہماری ملاقات ہوئی جو ایک بڑے غیر ملکی ادارے سے فارغ ہیں تو انہوں نے ہمارے سامنے اقرار کیا کہ یہ سکیم سراسر دھوکہ اور فراڈ ہے لیکن انہوں نے اپنا نام مخفی رکھنے کی استدعا کی کہ ایسا نہ ہو کہ گھر والے کہیں تمہارے پاس تو رقم ہی نہیں تھی تو تم نے یہ ۲۵۰۰ روپے کہاں سے لے کر کہاں جا کر خرچ کر دیے ان صاحب کے پاس ایک کین اوپنر یعنی ڈبے کا ڈھکن کاٹنے والا آلہ تھا اور کچھ شیمپو تھے۔ وہ خود بتا رہے تھے کہ ان کی مجھے کوئی ضرورت نہیں تھی خاص طورپر کین اوپنر کی جو انہوں نے کمپنی سے ۱۳۰۰ / روپے میں خریدا تھا۔ حالانکہ اگر ضرورت بھی ہو تو بازار سے سادہ سا ایسا آلہ بھی لیا جا سکتا ہے جو پچاس، سو روپے سے زیادہ نہیں آتا۔ لیکن بقول اس بھائی کے اسے ممبر بننے اور کمپنی کا کم از کم مطلوبہ بزنس حجم پورا کرنے کے لیے یہ چیزیں خریدنا پڑیں۔
ایک اور ممبر اشرف صاحب سے ملاقات ہوئی جو ایک بزرگ ہیں۔ انہوں نے بھی اس سکیم کو دھوکہ اور فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں تو کمپنی کے ان ممبران کے کہنے پر ممبر بن گیاجن کو میں دینی و دنیاوی طور پر بڑا پڑھا لکھا سمجھتا تھا۔ لیکن انہوں نے مجھے باتوں میں لا کر اس کاروبار میں پھنسا دیا اور پھر خود ہی ممبر بننے اور کمپنی کا کم از کم مطلوبہ بزنس حجم پورا کرنے کے لیے مجھے ۲۰۰۰ / روپے کی ۴ ٹوتھ پیسٹیں (۵۰۰ روپے فی ٹوتھ پیسٹ) تھما ڈالیں۔ میں ان کا یہ طریقہ کار دیکھتے ہی اس سکیم کے مقاصد کو سمجھ گیا اور تائب ہو گیا۔ بزرگ محمد اشرف کا کہنا تھا کہ ۲۰۰۰/ روپے ضرور ضائع ہو گئے لیکن میں مزید اپنی آخرت خراب نہیں کر سکتا تھا اور دوسرو ں کو اسی طرح پھنسانا میرے ضمیر نے گوارا نہیں کیا ۔ میں نے ان ٹوتھ پیسٹوں کو تو ہاتھ تک لگانا گوارا نہیں کیا ۔ اب یہ بزرگ دوسرے ممبران کو اس سکیم سے نکلنے کے لیے سمجھاتے رہتے ہیں۔اسی طرح کئی اور ممبر جو اس سکیم کو حقیقتًا فراڈ سمجھتے ہیں لیکن کچھ تو دولت کی لالچ کی بناء پر خاموش ہیں اور کچھ کو یہ خوف بھی آجکل ہے کہ کمپنی کہیں ان کے خلاف کوئی اقدام نہ کر دے خصوصًا کمپنی کی طرف سے ایک اعزازی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی برطرفی کے بعد یہ ممبر زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔
ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ کمپنی نے اپنے فوڈ سپلیمنٹ کے بارے میں لکھا ہے کہ اس سے بہت سے لوگوں کو شفا ہوئی ہے ۔ اپنی بزنس کٹ میں شفا پانے والے کچھ لوگوں کے نام پتے بھی دیے گئے ہیں۔ اب پہلی بات تو یہ تھی کہ جن کے نام دیے گئے تھے ، ان پر کسی کا پتہ نہیں تو کسی کا فون نمبر نہیں ، اگر ہے تو ساتھ کوڈ نہیں ، پھر اکثر کے نیچے یہ لکھا ہے کہ ان کو ۵۰فی صد یا ۷۰فی صد تک شفاء ہوئی ہے ۔ صرف ایک مریض کا پورا نام پتہ اور فون نمبر جمع کوڈ تھا۔ ان کا نام سید ناظم شاہ ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ نے جن بیماریوں کے لیے یہ دوا استعمال کی تو کیا آپ کو مکمل شفا ہو گئی ہے تو ان کا فرمانا تھا کہ دیکھیں شوگر مکمل طور پر تو کبھی ختم نہیں ہو سکتی لیکن حالت پہلے سے بہت بہتر ہے۔ باقی بلڈ پریشر وغیرہ بھی اب ٹھیک ہے۔ ان سے بالآخر یہ معلوم ہوا کہ موصوف کمپنی کے ڈائریکٹر ہیں۔
ایک اور ممبر نے اپنے والد کے دل کے مسئلہ کے لیے کمپنی کا فوڈ سپلیمنٹ سے جواب لیا جو ۱۲۰۰۰ / سے ۱۹۰۰۰ /میں ملتا ہے۔محترم پروفیسر حافظ ثناء اللہ خاں بتا رہے تھے کہ اس کے استعمال کے کچھ عرصے بعد جب انہوں نے مریض کو دیکھا تو ان کی حالت پہلے سے بھی خراب تھی۔
کمپنی کی بظاہر ان شفا بخش ادویات کے بار ے میں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ایسی دوائیاں اور فوڈ سپلیمنٹ وقتی طور پر جسم کی قوت مدافعت بڑھا دیتی ہیں اور کئی بیماریاں عارضی طور پر دب جاتی ہیں اور انسان سمجھتا ہے کہ وہ شفا یاب ہو رہا ہے ۔ کھلاڑی ،باڈی بلڈرز وغیرہ بھی ایسی دوائیاں اور خوراکیں استعمال کرکے سپر مین بن جاتے ہیں لیکن انہیں چھوڑتے ہی وہ مزید کئی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ باقی ۵۰ ، ۶۰ فیصد تک لوگ کوئی بھی دوائی استعمال کرنے سے وقتی طورپر ٹھیک ہو جاتے ہیں اور دوبارہ حالت وہی ہو جاتی ہے۔ اور یہ بھی کمپنی کا اپنا دعویٰ ہے کہ فلاں مریض کو اتنے فیصد شفا مل گئی ہے۔ کیا ان کے پاس کوئی ایسا آلہ ہے کہ جو یہ فیصد نکال سکے۔ ان کی دوائیں مشکوک ہونے کا ایک یہ بھی ثبوت ہے کہ ایک طرف تو یہ عام لوگوں کو اپنا فوڈ سپلیمنٹ بے شمار بیماریوں کا کامیاب علاج بتاتے ہیں لیکن ساتھ ہی اپنے لٹریچر میں اس کے تعارف کے آخر میں چھوٹا سا لکھا ہے:''جب تک آپ جواب سے اچھے نتائج حاصل نہ کر لیں معمول کی ادویات لینا ترک نہ کریں۔ آپ ان کو آہستہ آہستہ چھوڑ سکتے ہیں ۔ یو یو آن زو کے نتائج مختلف لوگوں میں مختلف باڈی فیکٹرز کی بناء پر مختلف ہو سکتے ہیں۔''
قارئین کرام ! یہ تو حال ہے گولڈن کی انٹر نیشنل کی ادویات نما اشیاء کی حقیقت کا جس کی کچھ تفصیل آپ جناب ریاض الحسن نوری سابق مشیر وفاقی شرعی عدالت کے تبصر ے میں پڑھیں گے۔ اب ان کی مارکیٹنگ کے طریقہ کی شرعی طور پر کیا حیثیت ہے تو اس بارے میں اور دیگر کمپنیوں کی مارکیٹنگ کا تفصیلی شرعی جائزہ آپ علماء کے درج ذیل تفصیلی شرعی جائزے میں ملاحظہ فرمائیں:
فراڈ کمپنیوں کے بارے نائب مفتی جماعۃ الدعوۃ حافظ عبدالرحمن عابد کا فتویٰ
اسلام وہ دین ہے جو اللہ تعالیٰ نے جبریل امین علیہ السلام کے ذریعہ امام الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کو مکمل کر کے قرآن مجید کے اندر اس کا اعلان فرما دیا۔ اب مسلمانوں پر قیامت تک کے لیے زندگی کے تمام شعبوں میں ان سے رہنمائی لینی ہی کافی ہے۔اب ان کو نہ کسی دوسرے دین کی ضرورت ہے اور نہ ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی نبی کی ضرورت ہے ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں خاتم النبیین بنا دیا۔
اب حلال صرف وہی ہے جسے اللہ رب العالمین نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے حلال کر دیا اور حرام صرف وہی ہے جسے حرام کر دیا۔ اسی دین اسلام میں ہمارے لیے عقائد ، اعمال ، اخلاق کے علاوہ ہمارے انفرادی ، اجتماعی ، سیاسی ، اقتصادی ، معاشی تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ جیساکہ حدیث میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( ما بقی شیء یقرب من الجنۃ ویباعد من النار الا وقد بین لکم ) )
[المعجم الکبیر للطبرانی حدیث:۱۶۴۷]
''کوئی چیز (اسلا م میں) ایسی نہیں بچی جو جنت کے قریب کر دینے والی ہو اور جہنم سے دور کرنے والی ہو مگر وہ تمہارے لیے بیان کر دی گئی ہے۔''
لیکن امت مسلمہ کا المیہ ہے کہ اسلام دشمنوں کی مسلسل فکری یلغار کی وجہ سے اسلام اجنبی اور غریب بن گیا ۔ غیر مسلم قوموں خصوصًا یہود و نصاریٰ اور اہل مغرب کی مادی ترقی سے مرعوب ہو کر باقی تمام اشیاء کے ساتھ معاشی اور اقتصادی طریقے بھی انہی کے اختیار کر لیے گئے جس کی بنیاد ہی سود پر ہے۔ یہ سودی سلسلہ زمانہ کے تطور کے ساتھ ساتھ اپنی شکلیں گرگٹ کی طرح بدلتا رہا۔ جب ایک سودی سکیم لوگوں میں فیل ہو جاتی ہے تو نئے نام سے دوسری کوئی سکیم ایجاد کر لی جاتی ہے جیسے آج کل کئی سودی سکیمیں شروع کی گئی ہیں۔
ورلڈ ٹریڈنگ نیٹ سکیم:
ایک سکیم راولپنڈی سے شروع کی گئی ہے جس کا نام ورلڈ ٹریڈنگ نیٹ (سوال) ہے ۔ ان کی سکیم یہ ہے کہ آپ ۳۰۵۰ / روپے ادا کر کے بارہ لاکھ حاصل کر سکتے ہیں ۔ طریقہ کار یہ ہے کہ یہ لوگ ایک فارم دیتے ہیں جس پر پانچ خانوں میں پانچ ممبر ز کے نام و پتہ درج ہوتے ہیں ۔ ان سب کو درج کردہ مخصوص رقم منی آرڈر کرنا ہوتی ہے۔ جبکہ کمپنی کو ۸۰۰/ روپے منی آرڈر کرنا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ۵۰ / روپے چیرٹی باکس والے ایک خانے میں درج ممبر کو بھیجنے ہوتے ہیں ۔ یہ کل رقم ملا کر ۳۰۵۰/ روپے بنتی ہے۔ ان سب کے منی آرڈرز کی رسیدیں کمپنی کو بھیجنے پر کمپنی آپ کو ایسے پانچ فارم بھیج دیتی ہے ۔ اب ان فارموں میں پانچویں نمبر پر خود آپ کا نام آجائے گا۔ یہ فارم جب آپ آگے تقسیم کریں گے تو نئے ممبر بھی آپ کو اسی طرح منی آرڈر بھیجیں گے۔ جوں جوں یہ فارم آگے چلتا ہے ، ممبر ز بڑھتے رہتے ہیں تو آپ کا نام ترقی کرتا ہوا چوتھے نمبر پر ، پھر تیسرے ، پھر دوسرے اور پہلے نمبر پر آ جائے گا۔ یہاں تک پہنچ کر آپ کے پاس بارہ لاکھ جمع ہو جائیں گے۔ اس کے بعد آپ کا نام فارم سے ختم ہو جائے گا۔ پھر دوسرے آ پ کی جگہ لیتے جائیں گے ۔ علاوہ ازیں کمپنی کی طرف سے یہ بھی گارنٹی ہے کسی ممبر سے فارم آگے نہ چل سکے تو وہ ہمیں درخواست لکھ دے ۔چیرٹی بکس والے خانے سے جمع ہونے والی رقم میں سے نمبر آنے پر اسے ۳۵۰۰/ روپے مل جائیں گے۔ یعنی ۴۵۰/ روپے پھر بھی زیادہ ملیں گے۔ اور خسارے کا کوئی امکان نہیں۔
یہ سکیم کئی وجوہات کی بنا ء پر غیر شرعی ہے۔
1 اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا[البقرۃ:۲۷۵] ''اللہ نے بیع ( خرید و فروخت) کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔ '' (البقرۃ) جبکہ یہ سکیم تجارت کی صورت سے خارج ہے۔ تجارت میں لین دین کرنے والوں کے درمیان کوئی چیز ہوتی ہے جس سے مال اور اشیاء کا تبادلہ ہوتا ہے جبکہ یہاں کوئی چیز نہیں ہے۔ صرف لوگوں کو قائل کر کے اور کاغذ آگے بانٹ کر اس کمپنی کے چنگل میں پھنسانا ہوتا ہے۔ اگر اسے دلالی کی قیمت سمجھیں تو پھر بازارِ حسن کی طوائفوں کی دلالی کرنے والے اور اس پر وقت اور محنت صرف کرنے والے کے کاروبار کو بھی حلال اور تجارت ماننا پڑے گا۔ کیونکہ دونوں میں صورت ایک سی ہے۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام کیا ہے اور ادھر بدکاری ایک حرام فعل ہے۔
2 دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ سود بھی خوفناک ظلم کی صورت ہے کہ اس نے تو اپنی رقم کمپنی کے کھاتہ میں اور کچھ دوسرے افراد میں تقسیم کی ہے جبکہ اسے جو کچھ ملتا ہے ، وہ نہ کمپنی کی طرف سے ہوتا ہے اور نہ ہی ان افراد کی طرف سے جن کو اس نے رقم منی آرڈر وغیرہ کی ہے ۔ جو کچھ ملتا ہے ، وہ ان نئے افراد کی طرف سے ملتا ہے ، جن کو صرف ایک کاغذ دے کر پیسے لیے جاتے ہیں ۔ سود میں تو یہ ظلم ہے کہ قرضہ وغیرہ دے کر مقروض سے ناجائز فائدہ اُٹھایا جاتا ہے لیکن یہاں اس شخص سے فائدہ اُٹھایا جا رہا ہے جس کو کچھ دیا ہی نہیں۔
اور سود اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اعلانِ جنگ ہے اور سودی کاروبار میں ملوث، لینے ، دینے والے اور لکھنے ، گواہی دینے والے سب برابر کے لعنتی ہیں۔ (مسلم) 1
اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: (( دِرْھَمُ رِبًا یاْ کُلُہُ الرَّجُلُ وَھُوَ یَعْلَمُ اَشَدُّ عِنْدَ اللّٰہِ مِنْ سِتَّۃٍ وَثَلَاثِیْنَ زَنِیَّۃً ) )'' سود کا ایک درہم جسے آدمی کھاتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ سود ہے ، اللہ تعالیٰ کے ہاں چھتیس (۳۶) مرتبہ زنا سے بھی زیادہ سخت ہے (یعنی برا ہے) '' (صحیح الجامع الصغیر:۳۳۷۵)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 مسلم؍کتاب البیوع؍باب لعن آکل الربا وموکلہ۔ ترمذی؍کتاب البیوع؍باب ما جاء فی اکل الربا۔
اور یہ بھی فرمایا: (( اَلرِّبَا سَبْعُوْنَ بَابًا أَیْسَرُھَا اَنْ یَنْکِحَ الرَّجُلُ أُمَّہٗ ) )1 (الجامع الصغیر:۳۵۴۱) ''سود کے ستر دروازے ہیں ، سب سے معمولی دروازہ ایسا ہے کہ جیسے کوئی شخص اپنی والدہ سے نکاح کرلے۔''
تیسری وجہ: … اس سکیم کو بیع تسلیم بھی کر لیں تب بھی سود ہے کہ اس میں زیادہ پیسوں کی کم پیسوں کے ساتھ بیع کی جاتی ہے اور وہ بھی اُدھار۔ صحیح بخاری اور مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان:2
(( لَا تَبِیْعُوا الذَّھَبَ بِالذَّھَبِ اِلاَّ مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوْا بَعْضَھَا عَلیٰ بَعْضٍ وَلَا تَبِیْعُوْا الوَرِقَ بِالْوَرِقِ اِلاَّ مِثْـلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوْا بَعْضَھَا عَلَی بَعْضٍ وَلَا تَبِیْعُوْا مِنْھَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ ) )
''سونا سونے کے بدلے نہ بیچومگر برابر برابر اور زیادہ کم مت بیچو اور چاندی کو چاندی کے بدلے نہ بیچو مگر برابر برابر ، ایک طرف زیادہ اور دوسری طرف کم نہ ہو اور نہ ایک طرف اُدھار ، دوسری طرف نقد۔''
صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا::
(( اَلذَّھَبُ بِالذَّھَبِ وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ فَمَنْ زَادَ اَوِاسْتَزَادَ فَقَد اَرْبَی اَلَآخِذُ وَالْمُعطِیْ فِیْہِ سَوَائٌ ) )3
''سونے کے بدلے سونا اور چاندی کے بدلے چاندی …''
اس حدیث کے آخر میں ہے ، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ کا مطالبہ کیا، وہ سود میں پڑ گیا ، لینے والا اور دینے والا برابر ہے۔
اس مذکورہ سکیم میں بھی آدمی کم رقم دے کر بغیر کوئی چیز فروخت کرنے کے محنت کے زیادہ رقم لے لیتا ہے جو سراسر سود اور غیر شرعی ہے۔
گولڈن کی انٹر نیشنل:
مغربی سودی اور قماری سکیموں کو زیادہ مقبول شکل میں پیش کرنے کے لیے ایک بہت بڑا حیلہ اختیار کیا گیا ہے جسے گولڈن کی سکیم کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں بظاہر ممبرز کو کمپنی ایک چیز فروخت کرتی ہے لیکن کمپنی اور ممبرز محض چیزوں کی عام مروجہ اور شفاف طریقہ فروخت سے زیادہ دولت اکٹھی نہ کر سکتے تھے چنانچہ اس سکیم میں فروخت کا بھی ایسا طریقہ اختیار کیا گیا کہ ممبر ز تھوڑی سی رقم لگا کر بہت زیادہ دولت اکٹھی کر سکیں جبکہ کمپنی بھی آسانی سے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ابن ماجہ؍کتاب التجارات؍باب التغلیظ فی الربا
2 بخاری؍کتاب البیوع؍باب بیع الفضۃ بالفضۃ۔ مسلم؍کتاب البیوع؍باب الربا۔
3 مسلم؍کتاب البیوع؍باب الصرف و بیع الذھب بالورق نقدًا
کروڑوں اربوں روپیہ سمیٹ سکتی ہے۔ کمپنی کی طرف سے ممبران کو بہت مہنگی اشیاء بیچی جاتی ہیں ۔ مثلًا ایک ٹوتھ پیسٹ کی قیمت بھی کم از کم ۷۵۰/ روپے ہے ، ایک شیونگ کریم (جیل) کی قیمت ۹۰۰/ روپے ہے ۔ سب سے زیادہ ممبران کو جو چیز خریدنے کی رغبت دی جاتی ہے ، یہ ایک پاؤڈرہے جسے کینسر ، شوگر ، ہیپا ٹائٹس سمیت بہت سی بیماریوں کا جادوئی علاج بتایا جاتا ہے ۔ اس کی قیمت ۱۹۰۰۰ / روپے ہے ۔ یہ تقریبًا انر جائل کے ڈبے سے کچھ بڑے سائز میں ایک سفوف سا ہوتا ہے ایک کین کٹر یا ڈبہ کٹر کی قیمت ۱۳۰۰/ روپے ہے۔ بے بی لوشن ۷۵۰/ روپے کا ہے۔ اسی طرح باقی چیزوں کی قیمتوں کا حال یہی ہے ۔کمپنی کے مطابق اس کی سب اشیاء ناقابل علاج بیماریوں کا علاج بھی ہیں لیکن کمپنی یہ اشیاء عام مارکیٹ میں نہیں رکھتی بلک صرف کمپنی کے جاری کردہ ایک خاص طریقہ کاروبار میں شامل ہونے والے ممبران کو ملتی ہیں یا ان ممبران کے ذریعے کمپنی سے ملتی ہیں ،ممبران خود کوئی چیز نہیں بیچتے ۔ ان کے طریقہ کاروبار میں بھی کم از کم صرف ۴۵۰۰/ روپے خرچ کرنے سے ممبر کو بالآخر لاکھوں روپے ملتے ہیں۔ اس کا طریقہ بتایا جاتا ہے کہ کمپنی کو ۱۵۰۰ / روپے ممبر شپ فیس ادا کرنا ہے جس کے عوض بڑے بڑے فائیو سٹار ہوٹلوں ، اعلیٰ تجارتی اداروں اور فضائی سفر میں ان کا کارڈ دکھانے پر کچھ رعایت ملتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کارڈ کا کوئی فائدہ نہیں۔ظاہر ہے اس سہولت سے عام غریب لوگ کم ہی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں ۔ تاہم کمپنی کے کاروبار میں شمولیت کے لیے کمپنی سے کم از کم مزید ۳۰۰۰ / روپے کی کوئی چیز خریدنا ہوتی ہے۔ اس طرح ممبر کا ۳۰۰۰/ بزنس حجم ہو جاتا ہے اور اسے ۵ فیصد کمیشن یا ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے ۔ اب اگر یہ پہلا ممبردو مزید ایسے ممبر بنائے کہ بزنس حجم ملا کر ۰۰۰،۱۰/ ہو جائے تو اس کے بعد ممبر ۱۵فی صد ملے گا۔ اس پہلے ممبر کو اب سپر وائزر کا نام دیا جائے گا۔ جب اگلے دو ممبر مزید آگے ممبر بنائیں گے اور وہ ۶۰ ہزار کا بزنس حجم بنا لیں تو اس کے بعد پہلے ممبر کو ۲۵ فیصد ملے گا اور وہ مینجر کہلائے گا۔ اس طرح ہر نیا ممبر مزید آگے ممبر بناتا رہے گا اور جب بزنس حجم دو لاکھ چالیس ہزار کا ہو جائے گا تو پہلا ممبر ڈائریکٹربن جائے گا اور اسے ۴۰فیصد ملے گا۔ پھر ۲۰ لاکھ کا بزنس حجم ہونے پر پہلا ممبر ایگزیکٹو ڈائریکٹر بن جائے گا۔ اسے۴۳فیصد ملے گا۔ کمپنی کی طرف سے گاڑی ، بنگلہ ، غیر ملکی ٹورز اور بونس وغیرہ بھی ملیں گے۔ یہ تمام طریقہ کمپنی کے لٹریچر پر چھپا ہوا موجودہے البتہ تفصیلات صرف وہ کمپنی کے دفتر میں ہونے والی روزانہ کلاس میں بتاتے ہیں۔یہ عہدیدار اپنے نیچے بننے والے عہدیدار کو بھی اپنے کمیشن سے اتنا دے گا جو ہر ایک کے لیے مقرر ہے ۔ مثلًا ڈائریکٹر ۴۰فیصد لے گا تو ۲۵/ فیصد اپنے نیچے مینجر کو بھی دے اور مینجر ۲۵فیصدلے گا تو اپنے نیچے بننے والے سپروائز کو بھی ۱۵فیصد دے گا۔
یہ سکیم بھی سراسر حرام ہے اور اس کی حرمت کی کئی وجوہات ہیں:
8 گولڈن کی والوں نے اپنے لٹریچر میں یہ وضاحت کی ہے کہ ہماری اس کمپنی کا ممبر بننے میں خسارے کا کوئی امکان نہیں ۔ No Riskکے الفاظ ان کے لٹریچر پر لکھے ہیں۔ اور یہ سراسر سود ہے جس کو اللہ رب العالمین نے حرام کیا ہے۔ اس کو تجارت اور منافع قرار دینا سود کے مفہوم سے جہالت یا تجاہل کا نتیجہ ہے (جس سے ان کی حیلہ سازی کا ثبوت بھی مل رہا ہے)
کیونکہ انسان کے لیے منافع کے حصول کی عمومًا تین صورتیں بنتی ہیں:
1 اپنا مال کسی دوسرے شخص کے سپرد کر دے کہ آپ اس مال سے تجارت کریں اور جو فائدہ ہو گا ، اسے ہم آپس میں ایک متعین مقدار پر تقسیم کر لیں گے۔ یہ صورت صرف مال سے منافع حاصل کرنے کی ہے۔ اس میں مال اور محنت دونوں کے ضائع چلے جانے کا امکان بھی رہتا ہے۔
اس صورت میں منافع اور سود میں فرق بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ سودی کاروبار میں پہلے منافع کی شرح متعین ہوتی ہے اور وہ یقینی ہوتا ہے جیسا کہ یہ کمپنی والے خود اقرار اوراعلان کر رہے ہیں کہ آپ کا منافع بے حساب اور یقینی ہے جبکہ تجارت میں منافع یقینی بھی نہیں ہوتا اور اس کی شرح متعین بھی نہیں ہو سکتی۔
2 انسان خود اپنے مال کے ساتھ تجارت کرے اور اسے اس سے جو نفع حاصل ہو یا اپنا مال کسی دوسرے کو دے اور اس کے ساتھ خود بھی کام کرے۔ اس صورت میں بھی سود تجارت سے مختلف ہے ۔ کیونکہ تجارت میں مال والا اپنی محنت صرف کرتا ہے ۔ جبکہ سودی کاروبار میں مال والا کوئی محنت نہیں کرتا جیسا کہ گولڈن کی والوں کی سکیم میں بھی واضح ہے کہ جب پہلا ممبر بن جاتا ہے تو وہ کم از کم پہلی دفعہ دو ممبرز بلا واسطہ بناتا ہے اور کے بعد آگے اسی طرح ممبرز بناتے ہیں۔اسی طرح آگے جتنے بھی ممبر بنیں گے ، ان سب کے کمیشن میں بھی ممبرشریک ہو گا ۔ حالانکہ اگلے ممبرز نے بنائے ہوتے ہیں ان سے اگلے دوسروں نے کیونکہ آگے بنیادی ذمہ داری بھی ہمااور پھر ان کے بعد کے ممبران کی ہوتی ہے نہ کہ لیکن ممبر ، ممبرز کے بعد آخر تک بننے والے ممبرز کے منافع / کمیشن میں بھی شریک ہو جاتا ہے جبکہ ان سب پر ممبر کی عمومی طور پر محنت نہیں ہوتی اور نہ ہی انہیں کوئی مال دیا ہوتا ہے ۔
یہ سب اس لیے کہ کام کو زیادہ پرمشقت بنانا ایسی قماری کمپنیوں کے فلسفے کے ہی خلاف ہے۔ وہ تو بار بار اپنے لٹریچراور طریقہ کار میں یہ بات ذکر کرتے ہیں کہ اس طریقہ کاروبار کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ برائے نام وقت اور بہت معمولی محنت سے بہت زیادہ دولت کما سکتے ہیں۔
گولڈن کی والوں کے مطابق ممبر پہلے دو ممبر بنانے کے بعد بھی آخری ممبر تک کچھ نہ کچھ محنت ضرور کرتا ہے اگرچہ اگلے ممبرز بنانے کی بنیادی ذمہ داری اور ان کے بعد کے ممبران کی ہوتی ہے لیکن ممبر اگلے تمام ممبران کو ممبرز بنانے کے لیے ضرورت پڑنے پر ترغیب و رہنمائی تو دیتا ہے حالانکہ عملی حقیقت یہ ہے کہ ممبر صلی اللہ علیہ وسلم پہلے دو ممبران بنائے اور اگلے ممبران پر محنت نہ بھی کرے اور صرف اگلے ممبران ہی محنت کرتے رہیں کیونکہ آگے بنیادی ذمہ داری اگلے ممبران ہی کی ہوتی ہے تو ممبر سازی کا سارا نیٹ ورک بھی مکمل ہو جائے گا اور نیچے اسی طرح کے مطلوبہ ممبرز اور مینجرز وغیرہ پیدا ہو جائیں گے اور یوں ممبر کو پورا مقررہ کمیشن مل جائے گا۔
3 ایک تیسری صورت ہے کہ بندہ صرف کام ہی کر لے اس کا اپنا کوئی مال اس میں لگا ہو انہ ہو ۔جیسے کوئی شخص مضاربت پر محنت کر رہا ہے یا کسی اور شخص کے کام میں شریک ہے کہ نفع آپس میں تقسیم کر لیں گے۔ اس صورت میں بھی آدمی اپنی محنت کے نتیجہ میں نفع حاصل کر رہا ہے۔ جبکہ کمیٹی کا ممبر دوسروں کی محنت کے نفع میں شریک ہوتا ہے۔ لہٰذاا ن وجوہات کی بناء پر اس کمپنی کا تمام کاروبار سود کے زمرہ میں آتا ہے۔
8 پھر شریعت اسلامیہ کا مسلمہ ضابطہ ہے کہ کسی بھی کام اور معاملے پر حکم اس کے مقصد کے اعتبار سے لگایا جاتا ہے۔ اگر کام حلال ہے مگر جس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے ، وہ خلاف شریعت ہے اور حرام ہے تو اس کا حکم اور ہو گا اور اگر وہ حلال موافق شریعت مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے تو اس کا حکم اور ہو گا۔ انگور کی تجارت کرنا اور اسے فروخت کرنا حلال ہے لیکن جب اس کے بارے میں یقین ہو گا کہ وہ شراب کشید کرنے کے لیے خریدنا چاہتا ہے تو اس کا حکم اور ہو گا ۔ مکلف کے تمام قولی اور فعلی معاملات میں یہی اصول ہے۔ اس اصول کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو:گولڈن کی '' کمپنی والوں کے کاروبار کا ایک حصہ وہ ہے جسے وہ اپنی مصنوعات کہتے ہیں جن میں اشیاء کی قیمتیں بہت زیادہ رکھی ہوئی ہیں ، دوسرا حصہ ممبر بنانا ہے اور اپنے بننے والے ممبروں کو اپنی آمدن میں شریک کرنا۔''
ان دونوں میں سے کمپنی کا اصل مقصد ممبر بنانا ہے مصنوعات تو صرف بطورِ حیلہ اور لوگوں کو دکھانے کے لیے ہیں کہ وہ صحیح اسلامی حلال تجارت کر رہے ہیں ۔ اس بات کی واضح دلیل یہ ہے کہ کمپنی اپنی مصنوعات کو کھلی مارکیٹ میں نہیں لاتی ۔ صرف اپنے بننے والے ممبروں کو دیتی ہے ۔ اگر کوئی ممبر بننے کے بغیر لینا چاہے تو بھی بلاواسطہ نہیں بلکہ ممبر کے واسطہ سے مل سکتی ہے حتی کہ مشاہدہ میں یہ بات آئی ہے کہ ان کے کمپنی دفتر میں بھی کوئی شخص ممبر شپ کارڈ دکھا کر ہی جا سکتا ہے یا اسے ممبرز کے ذریعے جانا پڑتا ہے۔ اگر ان کا اصل مقصد اپنی مصنوعات کو فروغ دینا ہوتا تو لازمًا وہ اس کو مارکیٹ میں پیش کرتے اور ممبروں کے علاوہ جو بھی خریدنا چاہتا ، اس کو فروخت کرتے اور مال کماتے۔یہ تجارت کا شفاف طریقہ تھا لیکن اس کو چھوڑ کر ایسا گورکھ غیر شرعی طریقہ اسی لیے اختیار کیا گیا تاکہ کمپنی زیادہ سے زیادہ مال کمائے ، ممبران کو بھی زیادہ دولت کمانے کا لالچ ملے ، چاہے عوام کا اس میں عملی طور پ