فهرس الكتاب

الصفحة 1868 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

کیا یہ نفع جسے بینک اصلی سرمایہ پر ادا کرتے ہیں حلال ہے یا حرام؟ کیا ہم اس نفع کو لے لیں یا اسے چھوڑ دیں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

یہ نفع عین سود ہے کیونکہ یہ مال کے عوض اسی کی جنس کا مال اس سے زیادہ لینا ہے اور پھر بینک اس مال پر حاصل ہونے والے نفع کی اصل مقدار کو نہیں بتاتے بلکہ اسے دوسرے کے مال کے ساتھ بھی ملا دیتے اور کبھی بہت زیادہ نفع حاصل کرتے اور کبھی خسارہ بھی اٹھاتے ہیں لہذا بینکوں کی طرف سے ادا کیا جانے والا یہ نفع ربا بھی ہے اور غرر بھی لیکن بعض علماء نے اس بات کو جائز قرار دیا ہے کہ اسے لے کر خود استعمال نہ کیا جائے بلکہ فقراء و مساکین اور فلاح و بہبود کے کاموں میں صرف کر دیا جائے اور اسے ان لوگوں کے پاس نہ رہنے دیا جائے جو اسے معصیت کے کاموں میں استعمال کریں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج2 ص524

محدث فتویٰ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت