فهرس الكتاب

الصفحة 1605 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

امتحان کے دوران بددیانتی سے کام لینے کا کیا حکم ہے؟ یہ خیال رہے کہ میں نے بہت سے طلبہ کو دیکھا کہ وہ بددیانتی کرتے ہیں۔ میں انہیں سمجھاتا ہوں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ (خالد۔ ی۔ مکۃ المکرمہ)

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

بددیانتی امتحانات میں ہو یا عبادات اور معاملات میں، حرام ہے۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

(( مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا ) )

''جس نے ہم سے بددیانتی کی وہ ہم سے نہیں۔''

اس لیے کہ بددیانتی سے دنیا اور آخرت میں بہت سے نقصانات مرتب ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس سے بچنا اور دوسروں کو اسے چھوڑنے کی وصیت کرتے رہنا واجب ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت