فهرس الكتاب

الصفحة 363 من 2029

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو اپنے گھر میں ایسے فحش کی اجازت دے، جن میں تصویریں اور ایسے مقالات ہوں، جو شرعًا حرام ہیں۔

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!

الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!

کسی بھی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے گھر میں ایسے مجلات اور ناول لائے،جن میں ایسے مقالات ہوں،جو الحاد و بدعت و ضلالت یا برائی و بے حیائی اور جنسی بے راہ روی اور انارکی کی طرف دعوت دیتے ہوں ،کیونکہ یہ اخلاق وعقیدہ کو خراب کرتے ہیں،ہر گھر کا سر براہ اپنے گھر کے بارے میں جواب دہ ہے،کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

[الرجل راع علی اہل بیتہ و ہو مسئوول عنہم،[صحیح بخاری،الجمعة، باب القری و المدن، ح:۸۹۳ و صحیح مسلم ،الامارة۔، باب، الفضیلة الامیر العادل، الخ ،ح:۱۸۲۹ واللفظ لہ]

آدمی اپنے گھر کا حاکم ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص409

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت